میاں بیوی نہیں بہن بھائی بنو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی شمالی ریاست ہریانا سے تعلق رکھنے والے رام پال اور سونیا کو ان کے گاؤں کی پنچایت نے حکم سنایا کہ انہیں علیحدہ ہو کر بہن بھائیوں کی طرح رہنا ہوگا۔ یہ جوڑا ہریانہ کے ایک گاؤں اساندا میں رہتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اچھی خاصی خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا تعلق قریبی تعلق رکھنے والی برادریوں سے ہے اور ان کے درمیان دور کے یا برادریوں بنا پر بنے ہوئے بھائی بہن کا رشتہ ہے۔ اگرچہ ایک عدالت نے پنچایت کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جوڑے کی زندگی میں مداخلت نہ کرے لیکن اس کے باوجود ان کے زندگی ایک سانحے سے دو چار ہے۔ دلی سے بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کی رپورٹ کے مطابق سونیا امید سے ہے اور رام گوپال نے پنچایت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کا فیصلہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے‘۔ اس نے بتایا کہ ’انہوں نے سونیا سے کہا کہ وہ مجھے اپنا بھائی بنا لے اور سمجھے لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور ان سے صاف صاف کہہ دیا: وہ میرا شوہر ہے میں اسے بھائی کیسے مان یا بنا لوں‘۔ سونیا نے پنچائت والوں سے کہاء ’تم مجھے مارڈالو تو بھی نہیں، میں اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گی‘۔ رام گوپال نے بتایا کہ اس پر انہوں نے سونیا کو تھپڑ مارے اور میں اتنا ڈر گیا کہ کہ میں نے احتجاج تک نہ کیا لیکن میرے بہنوئی اور بہن نے مداخلت کی اور اسے بچایا ورنہ وہ سونیا کو بہت بری طرح مارتے‘۔ چار ماہ کی حاملہ سونیا اب ہسپتال کے بستر پر پڑی خالی نظروں سے چھت کو گھورتی رہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے ’اس واقعے کی یاد بھی ہولناک اور درد انگیز ہے۔ اس کا کہنا ہے ’مجھے نہیں پتا میں نے کیا غلط کیا ہے، جب بھی میں اس واقعے کو یاد کرتی ہوں خود کو بیمار محسوس کرنے لگتی ہوں۔ میرے خون کا دباؤ اوپر نیچے ہونے لگتا ہےاور ایسا لگتا ہے جیسے میں پاگل ہو جاؤں گی‘۔ عدالت کے حکم کے مطابق پنچایت پیچھے تو ہٹ گئی ہے لیکن اس جوڑے کو لاحق خطرے ختم نہیں ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||