BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 21:08 GMT 02:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندو لڑکی طلاق لینے میں کامیاب
کم عمر دلہن
کم عمری میں شادی بھارت کے کئی علاقوں میں عام بات ہے
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں ایک چودہ سالہ ہندو لڑکی نے اپنے کم عمر شوہر سے طلاق حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

چینگل سوشیلہ کی شادی دو سال پہلے ہوئی تھی لیکن اپنے شوہر سے تنگ ہونے کے باعث انہوں نے اس رشتے کو ختم کرنے کے لیے گاؤں والوں کو یہ دھمکی دی اگر ان کو اس شادی سے آزاد نہ کیا گیا تو وہ خودکشی کرلیں گی۔

بھارت کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کم عمری میں ہونے والی شادی میں کسی ہندو لڑکی کو اپنے شوہر سے طلاق لینے میں کامیابی ہوئی ہو۔

سوشیلہ کا کہنا ہے کہ اس شادی سے نجات حاصل کرنے کی وجہ ان کا پڑھائی کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔

سوشیلہ کے والدین نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ سوشیلہ کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہونی چاہیے تھی۔

سوشیلہ ضلع رانگا ریڈی کی رہنے والی ہیں اور بھارت میں ان کے خاندان کو نیچی ذات کا تصور کیا جاتا ہے۔

سوشیلہ کی شادی دو سال پہلے پڑوسی گاؤں کے ایک پندرہ سالہ لڑکے سے ہوئی تھی۔

سوشیلہ نے اپنے شوہر کی زیادتیوں سے تنگ آکر چھ مہینے قبل پولیس سے مدد طلب کی لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔اور ان کی اس کوشش کو دونوں طرف کے بزرگوں نے یہ کہ کر مسترد کردیا کہ ہندو مذہب میں طلاق کی اجازت نہیں، چاہے شادی کم سن بچے سے ہی کی کیوں نہ ہو۔

سوشیلہ نے ان تمام دلیلوں کا مقابلہ کیا اور اپنی شادی ختم کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔

طلاق کا فیصلہ سوشیلہ اور اس کے شوہر کے والدین کے مابین ہوا اور آخر دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ اس شادی کو ختم کیا جانا چاہیے۔

قانونی طور پر بنائے گئے طلاق کے کاغذات پر دونوں کے گھروالوں نے دستط کیے اور لڑکے کو سوشیلہ کے زیورات اور رقم کے علاوہ جہیز میں دیاگئے سامان واپس دینے کے لیے کہا ہے۔

ایک غیر سیاسی تنظیم نے سوشیلہ کو طلاق دلانےمیں مدد کی۔ اس کے علاوہ اس تنظیم نے ان کو ایک مقامی سکول میں پڑھوانے کی بھی ذمہ داری لی ہے۔

سوشیلہ کا کیس بھارت میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس کی دو اہم وجوہات بتائی جارہی ہیں۔

جن میں سے ایک وجہ یہ کہ کیونکہ سوشیلہ کا تعلق بھارت میں ہندوں کے نیچی فرقے سے ہے جس میں تعلیمی معیار نہ ہونے کے برار اور عالمی سطح کے معیار پر ان کو اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

دوسری وجہ یہ کہ سوشیلہ کا تعلق ہے ایک پسمنادہ علاقے سے ہے جہاں کم عمری کی شادی عام بات ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد