بھاگ کر شادی کرنے والوں کا میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں بھیل قبائل کے افراد ایک میلے میں شرکت کر رہے ہیں جس میں لڑکے اور لڑکیاں جیون ساتھی پسند کرنے کے بعد ان کے ساتھ بھاگ جاتے ہیں۔ صدیوں سے جاری بہار کے موسم میں شروع ہونے والے اس میلے میں کو مقامی لوگ ’بھگوڑیا میلہ‘ کہتے ہیں۔ بن بیاے لڑکے اور لڑکیاں بہار کی آمد کے ساتھ ہی ’بھگوڑیا میلوں‘میں شرکت کرتے ہیں جو ہولی کے دوران منعقد ہوتے ہیں۔ ڈولوں کی تھاپ اور بانسریوں کے سُروں میں لڑکے اور لڑکیاں خوبصورت لباس پہنے اپنا جیون ساتھی تلاش کرتے ہیں اور پھر ان ساتھیوں کے ساتھ جھولے جھولتے ہیں اور میلے میں ناچتے گاتے ہوئے اپنی شرکت جاری رکھتے ہیں۔ میلے میں شریک انتار سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے سترہ سالہ سمترا کو پسند کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سمترا کو ساتھ لے جائیں گے اور کچھ عرصہ ساتھ گزاگر کر فیصلہ کریں گے آیا وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں۔ ان میلوں کے آغاز کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ روایت اس وقت شروع ہوئی جب مردوں نے اپنی بیٹیاں بیاہنے کے لیے زیادہ رقم کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔ بھیل قبیلے میں اب بھی لڑکوں کو شادی کے لیے لڑکی کے خاندان والوں کو بھاری رقوم دینی پڑتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ رسم بھیل بادشاہوں نے شروع کی۔ بھیل بھارت کی غریب قوموں میں شامل ہیں اور ان میں سے صرف بیس فیصد خواندہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||