BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 June, 2004, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائیں بابا: بھگوان یا دھوکےباز؟

ڈھونگ یا خدا دوست؟
پریمانند کے حوصلے بلند ہیں اور وہ سائی بابا کو بے نقاب کرنے کی مہم میں پوری طرف مصروف
انڈیا کے بساوا پریمانند کا کہنا ہے کہ معروف روحانی رہنما شری ستیا سائیں بابا دراصل ایک ڈھونگی ہیں اور انہیں بےنقاب کرنا چاہیے۔

پچھلے ایک ماہ میں تین بار پریمانند کے گھر چوری ہوئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چوروں کا مقصد سائیں بابا کے خلاف وہ سارے ثبوت حاصل کرنا ہے جو پریمانند نے پچھلے 30 سال میں جمع کیے ہیں۔

پریمانند کا کہنا ہے کہ وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ سائیں بابا نہ صرف ایک ڈھونگی ہیں، بلکہ ایک خطرناک جنسی مجرم بھی۔

پریمانند کے مطابق سائیں بابا کا مقصد صرف لوگوں کو بےوقوف بنا کر اپنی تجوری بھرنا ہے۔

بساوا پریمانند ایک ماہانہ رسالے کے ایڈیٹر اور فیڈریشن آف انڈین ریشنلسٹ ایسوسی ایشن کے بانی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اپنے ملک کو ضعیف الاعتقادی اور تواہم پرستی سے پاک کرنا ان کا فرض ہے۔

وہ سائیں بابا کے خلاف 1976 سے ایک لمبی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

انڈیا اور بیرونی ممالک میں سائیں بابا کے کئی لاکھ مرید انہیں دنیا میں بھگوان کا اوتار مانتے ہیں۔

سائیں بابا کی جنسی بداطواری کی افواہیں کئی برس سے سننے میں آ رہی ہیں۔ 1976 میں ان کے ایک سابقہ مرید ٹال بروک نے اپنی کتاب Avatar of the Night: the Hidden Side of Sai Baba میں سائی بابا کے جنسی معرکوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ مگر بروک کے الزامات کو سائیں بابا کے ادارے نے مسترد کر دیا تھا۔

سائیں بابا کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل گولڈسٹین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ افواہیں سنی تھیں، مگر ان کے خیال میں یہ بےبنیاد ہیں۔

پچھلے چار سالوں میں، انٹرنیت کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے سائیں بابا کے خلاف الزامات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ اور سائی بابا کے کئی سابقہ مرید اپنے ساتھ ہوئے نامناسب سلوک کی کہانیاں لے کر سامنے آئے ہیں۔

اب تک سبھی الزامات مغربی ملکوں میں رہنے والوں نے لگائے ہیں۔ مگر پریمانند کا کہنا ہے کہ کئی بھارتیوں کے ساتھ بھی سائیں بابا نے بد سلوکی کی ہے اور وہ ڈر کے مارے سامنے نہیں آ رہے۔

سائیں بابا کے مریدوں میں کئی ممتاز شخصیات بھی شامل ہیں۔ وزیر، جج، فوجی جنرل، سبھی بابا کے آشرم میں حاضری دینے جاتے ہیں۔

سابقہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی تک نے ایک بار سائی بابا کے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور خیالی قرار دیا تھا۔

پولیس میں بھی سائی بابا کے کافی مرید اور دوست موجود ہیں۔

مگر اس سب کا پریمانند کے حوصلے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سالوں سے وہ سائی بابا کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اب تک وہ سائی بابا کے حامیوں کے چار قاتلانہ حملوں سے بچ چکے ہیں۔ ان کے جسم پر زخموں کے بھی کئی نشان ہیں۔

جون 1993 میں سائیں بابا کے آشرم میں ایک حادثے میں بابا کے چار قریبی مرید اور دو خدمت گار مارے گئے تھے۔ بابا کے ان چار مریدوں نے چھریاں لیے ہوئے ان کے کمرے میں داخل ہو نے کی کوشش کی۔ بابا کے خدمت گاروں نے انہیں روکنا چاہا اور ہاتھا پائی میں دو خدمت گار مارے گئے۔

سائیں بابا خفیہ راستے سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس کے موقع واردات پر پہنچنے سے پہلے وہ چار شخص سائی بابا کے کمرے میں چھپ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہیں اپنے بچاؤ میں انہوں نے ان چار اشخاص کو گولی مار دی۔

پریمانند کے مطابق یہ سچائی کو چھپانے کی کوشش تھی۔ اور اس مسئلے کو وہ عدالت لے گئے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی چھان بین مرکزی سرکار کے کہنے پر روک دی گئی۔

یہاں تک کہ سائیں بابا سے، جو کہ حادثے کے چشم دید گواہ تھے، کوئی پوچھ گچھ تک نہیں کی گئی۔

پریمانند نے اس کیس کو سپریم کورٹ تک پہنچا تو دیا مگر آخر کار 1996 میں وہ کیس ہار گئے۔

اس سب کے باوجود پریمانند کے حوصلے بلند ہیں اور وہ سائیں بابا کو بے نقاب کرنے کی اپنی مہم میں پوری طرف مصروف ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد