ٹیکس کے خلاف ملک گیر ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کی کئی ٹریڈ یونینز اور تجارتی اداروں نے ویلوایڈیڈ ٹیکس یعنی ویٹ کے نفاذ کی مخالفت میں تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جس کے سبب ملک بھر میں تقریبا تمام بڑی منڈیاں اور دکانیں بند ہیں۔ دلی اور پنجاب میں پٹرول پمپ کی بھی ہڑتال ہے جس سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ ویٹ کا نفاذ اپریل کی پہلی تاریخ سے ہونا ہے۔ تجارتی ادارے اس کے خلاف رہے ہیں اور اب اس کی مخالفت میں وہ سڑک پر نکل آئے ہیں۔ عام ہڑتال کے سبب تقریباً ملک کے سبھی علاقوں میں تجارتی ادارے، بڑی منڈیاں اور دکانیں بند ہیں۔ کاروبار پوری طرح سے ٹھپ ہوگیا ہے اور اس سے عام زندگی متاثر ہورہی ہے۔ ہڑتال کی حامی تجارتی یونینز کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے نئے نظام سے ملک کی اقتصادیات کو فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوگا۔
دوسری طرف حکومت ٹیکس میں اصلاحات کے عمل میں اب مزید تاخیر نہیں چاہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ٹیکس اصلاحات کی سمت میں ویٹ کا نفاذ پہلا اہم قدم ہے اور اس کے نفاذ سے ملک کامعاشی نظام مزید بہتر ہوگا۔ ملک کی اکیس ریاستوں نے ویٹ کو یکم اپریل سے نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں نے اس پر ابھی عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ویٹ کے نفاذ سے تجارت میں کالا بازاری پر قابو پایا جا سکےگا اور ٹیکس کی وصولی بھی صحیح طور پو ہو سکے گی۔ ہڑتال کا اعلان کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز اور بھارت ادیوگ منڈل نے مشترکہ طور پر کیا ہے اور تقریبا سبھی ریاستوں کی یونینز انکا ساتھ دے رہی ہیں۔ ہڑتال کے دوران یہ تجارتی ادارے اپنی ریاست کے وزیر خزانہ سے ملاقات کر کے ان سے اپنے موقف کی وضاحت کریں گے۔ ہڑتال کے پہلے روز زیادہ اثر شمالی ہندوستان میں دیکھنے کو ملا ہے۔ دلی میں بازار پوری طرح سے بند ہیں۔ دوسری طرف دلی اور پنجاب میں پٹرول پمپز کی بھی ایک روزہ ہڑتال ہے جس کے سبب سبھی پیٹرول پمپ بند ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تاجروں کی ہڑتال تین روز تک جاری رہی تو عام اشیا کی قلت ہو سکتی ہے اور اسکے سبب قیمتوں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||