بینک ملازمین کی احتجاجی ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں دس لاکھ کے قریب بینک ملازمین نے بنکوں میں اصلاحات کے خلاف احتجاجی ہڑتال میں حصہ لیا۔ بینک یونینوں کا کہنا کہ اس طرح کی اصلاحات سے کئی ملازمین کو بینکوں سے نکالا جائے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ ستائیس کے قریب قومی بینک ضم ہو جائیں تاکہ عالمی اقتصادی ماحول میں بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ملک میں 22,000 کے قریب بینک برانچیں بند ہو جائیں گی۔ ہڑتال کے باوجود غیر ملکی اور نجی بنکوں میں 50,000 کے قریب ملازمین نے کام کیا لیکن اس سے کرنسی کے تبادلے کی منڈی متاثر ہوئی۔ منگل کی ہڑتال یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے کہنے پر کال کی گئی۔ اس فورم میں نو یونینز شامل ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے بینک سٹیٹ بینک آف انڈیا کے ملازمین نے بھی ہرتال میں حصہ لیا۔ گیارہ مارچ کو بھارتی پارلیمان کے سامنے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||