سر کاری ملازمین کا رویہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری دفاتر میں ملازمین کی کارکردگی کے تعلق سے شکایتوں سے سبھی واقف ہیں، عوام کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آنا، کام کرنے میں ٹال مٹول کرنا اور جان بوجھ کر توجہ طلب چیزوں سے آنکھیں چراناہی جیسے انکا پیشہ ہو۔ انہیں چیزوں کو دیکھ کر ملازمین کی اہلیت اور انکی مستعدی بڑھا نے کے لیۓ بہت سی تدابیر بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ یوروپ اور امریکہ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اکثر زیادہ کام کرنے کے سبب لوگ اعصابی امراض کے شکار ہوتے ہیں لیکن یہاں ملازم کام چوری میں سب سے آگے ہیں۔ سرکاری دفاتر کے کام کاج کے طریقوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے، ٹیلیفون، بجلی کا بل ہو یا ریزرویشن ٹکٹ و بینک کا کوئی کام ہر، جگہ لمبی لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ معمولی سے کام میں ہفتوں لگتے ہیں، وجہ یہی کہ فائل نہایت سست رفتاری سے آگے بڑھتی ہے۔ دارالحکومت دلی میں عام طور پو دیکھا جاتا ہے کہ ملازمین وقت کی پابندی بالکل نہیں کرتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے وقت پارکوں میں گھنٹوں تاش کھیلتے ہیں، کسی طرح وقت گزرا اور گھر روانہ ہولیۓ۔ نئی دہلی کے کناٹ پیلیس کے علاقے میں ایسے ہی ایک پارک میں بی بی سی کا مائک دیکھ کر بہت سے ملازمین تو بھاگ نکلے تاہم چند ایک نے بتایا کہ ان کے سینیئر افسران اکثر آفس سے لا پتہ رہتے ہیں تو وہ خود کیوں نہ تفریح کریں؟ اسی لیۓ وہ پاس کے پارکوں میں تاش کھیلتے ہیں۔ بعض کا کہنا تھا وہ تھوڑی سی تنخواہ پاتے ہیں اس لیۓ ان کے بجائے ان کے بڑے افسران سے پوچھا جائے جو صرف نام کے لیۓ دفتر آتے ہیں۔ ایک اور ملازم دوپہرکے وقفے میں پاس کے مندر میں پابندی سے بھجن گاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھے گھنٹے کا لنچ ٹائم ہے لیکن وہ مزید ایک گھنٹے کے اضافے کے ساتھ یہ با برکت کام انجام دیتے ہیں۔ دلی کے سرکاری دفاتر میں ملازمین کے اس رویے سے سبھی کو پریشانیاں لاحق ہیں ۔عام آدمی بے بسی سے یہی کہتا ہے کہ آخر کار یہ سرکاری ادارے ہیں اور یہاں افسران سے مستعدی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ حال ہی میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو جب اپنے دفتر پہنچے توکم سے کم پانچ سو ملازمین ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد بھی دفتر نہیں پہنچے تھے، اس پر لالو پرساد نے سزا کے طور پر ان ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کے احکامات دیے ہیں۔ ایک سینیئر بیورو کریٹ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سرکاری ملازمین کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں ایک خاص تنخواہ وقت مقررہ پر مل جاتی ہے۔ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرانے کی کوئی تربیت بھی انہیں نہیں دی جاتی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ سرکاری ملازمین کے کام کاج میں بہتری کے بجائے خرابی میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن نئي مرکزی حکومت نے انتظامیہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے۔ حکومت نے اپنے ایجنڈے میں نوکر شاہی اور انتظامیہ کی اصلاح پر خصوصی زور دینے کی بات کہی ہے اور اب دیکھنا یہی ہے کہ من موہن سنگھ حکومت اس میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر سرکاری ملازمین۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||