ڈاکٹر فوجداری مقدمات سے مبرا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی مریض کی موت کے باعث اس کے ڈاکٹر پر فوجداری مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ مریض کی موت ڈاکٹر کے فیصلے کی غلطی کی وجہ سے واقع ہوئی ہو۔ عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کو اس کے فیصلے کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے تاہم اسے فوجداری کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ عدالتِ عظمیٰ کے جج ڈی ایم دھرمادھیکاری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری نوعیت کی کارروائی صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے کہ جب کہ وہ انتہائی نااہلی کا مظاہرہ کرے یا مریض کی زندگی بچانے میں انتہائی غفلت کا مرتکب ہو۔ عدالت نے یہ رولنگ ایک پلاسٹک سرجن کے خلاف مقدمے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دی ہے۔ اس سرجن پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس کا کیا ہوا ناک کا ایک معمولی آپریشن مریض کی موت کا باعث بن گیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طبی پیشے سے تعلق رکھنے والوں نے اس روکنگ کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ مریضوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والے اس فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||