پندرہ سال سے باپ کا انتظار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک لڑکا پندرہ سال سے اپنے والد کے انتظار میں ہے جو غلطی سے سرحد عبور کر کے انڈیا کی حدود میں داخل ہوجانے کی پاداش میں جودہ پور جیل میں پابندِ سلاسل تھے۔ تین دن قبل بھارتی جیل سے رہائی پا کر واہگہ پہنچے والوں چھ افراد میں اس لڑکے کے والد بھی شامل ہیں جن کو اب پاکستانی حکام نے روک رکھا ہے اور خفیہ ایجینسی کے اہلکاروں ان سے ضروری ’پوچھ گچھ‘ کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ سردار محمد رؤف کشمیری کو پندرہ سال بعد بھارتی جیل سے رہائی ملی اور بدھ کے روز ان کو واہگہ سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ ابتدا میں پاکستانی حکام نے ان کی شناخت بتانے سے گریز کیا تھا اور ان سب کے بارے میں یہی کہا گیا تھا کہ ان کو غلطی سے سرحد عبور کرنے کے الزام میں بھارتی افواج نے گرفتار کیا تھا۔ ان چھ افراد میں جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ رؤف کشمیری کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محمد ایوب بھی ہیں اور ان کا تعلق بھی اسی تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ سنتالیس سالہ روف کشمیری کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلندری کے گاؤں گوراہ سے ہے۔
وہ جون انیس سو اکیانوے میں پونچھ میں بھارتی افواج کے ہاتھوں اس وقت گرفتار ہوئے جب وہ لائن آف کنڑول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ وہاں ان کے خلاف مقدمہ چلا اور ستمبر دو ہزار میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک عدالت نے ان کو غیر قانونی طور پر لائن آف کنڑول عبور کرنے اور اسلحہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں دہشت گردی اور تخریبی کاروائیاں کرنے کے لیئے سرحد پار سے اسلحہ لانے کے الزام میں دس برس کی سزا سنائی۔ فیصلے کے وقت چونکہ رؤف کشمیری پہلے ہی تفتیش اور مقدمے کی کارروائی کے دوران اپنی سزا پوری کرچکے تھے اس لیئے عدالت نے ان کو بری کیا اور ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ کہ ان کو تین ماہ کے اندر واپس پاکستان بھیج دیا جائے ۔ اس حکم پر عملد درآمد کیوں نہیں ہوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ بھارت کی حکومت نے ان کو سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا اور وہ اپنی رہائی تک بھارت کی ریاست راجستھان میں جودھ پور جیل میں رہے۔ اس دوران رؤف کشمیری کی گرفتاری کے صرف پندرہ دن بعد ان کے گھر بیٹا ہوا اور ابھی تک دونوں باب بیٹے نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہے اور وہ ایک دوسرے سے ملاقات کے منتظر ہیں ۔ لیکن رؤف اپنے والدین سے ملاقات نہیں کر پائیں گے کیوں کہ وہ ان کی گرفتاری کے دوران وفات پاچکے ہیں ۔ | اسی بارے میں مشرف: سکیورٹی سے دشواریاں 05 February, 2006 | صفحۂ اول ذہنوں کی ملاقات تھی: منموہن سنگھ 03 May, 2006 | انڈیا حریت، منموہن ملاقات کا خیرمقدم06 September, 2005 | پاکستان کھل کر بات کریں گے: میر واعظ 05 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||