BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 February, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف: سکیورٹی سے دشواریاں

صدر مشرف
۔ایک پاکستانی ریلیف افسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج کی امدادی پروازیں بھی معطل رہیں
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی مظفرآباد آمد کے موقع پر ہوائی اور زمینی امدادی کاروائیوں میں خلل پڑا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اتوار کے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظفرآباد میں خطاب کیا۔

پاکستان سن نوے کی دہائی کے اوائل سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ پانچ فروری کو یکجہتی کے طور پر مناتا آرہا ہے۔ تاہم اس دن کی کوئی تاریحی پس منظر نہیں ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں اقوام متحدہ کی چند ایک پروازیں فضا میں اڑتے ہوئے دیکھے گئے ۔ایک پاکستانی ریلیف افسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج کی امدادی پروازیں بھی معطل رہیں لیکن انھوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی ۔ اس کے برعکس سول ایویشن کے افسر نے بتایا کہ سنچیر کو ایک سو ساٹھ امدادی پروازیں ہوئی تھیں ۔لیکن بعض حکام کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی آمد کے باعث ریلیف کی سرگرمیاں میں خلل پڑا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پرویز مشرف کی آمد پر شہر مظفرآباد میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیےگئے تھے ۔مظفرآباد شہر میں عمارتوں پر پہاڑیوں پر ہزاروں فوجی، پولیس اور رینجرز کے اہلکار مشرف کے حفاطت کے لیے معمور کیےگئے تھے۔

شوکت لائن میں جس سٹیڈیم میں پرویز مشرف نے خطاب کیا اس کی طرف جانے والے تمام راستے نہ صرف ہر طرف سے پرائیویٹ ٹریفک کے لیے بند کر دیےگئے تھے بلکہ ان کی آمد پر سارے شہر کو ٹریفک کے لیے بند گیا تھا اور صرف وہ سرکاری گاڑیاں چل سکتی تھیں جن کو پہلے سے ہی سکیورٹی پاس جاری کیےگئے تھے ۔

جس مقام پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا اس جگہ سے اقوام متحدہ کے اداروں کا کیمپ چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ سخت سکیورٹی کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کے اہلکار نے بتایا کہ مظفرآباد میں اقوام متحدہ کے اداروں نے آج کے لیے اپنی سرگرمیاں معطل رکھیں کیوں کہ ان گاڑیوں کو بھی سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کی وجہ سے اقوام متحدہ کا بین الا اقوامی اور پاکستانی سٹاف کیمپ تک ہی محدود ہوکر رہ گیا جبکہ مقامی کشمیری سٹاف کو چھٹی دے دی گئی۔

اقوام متحدہ کی ایک تنظیم کے اہلکار نے بتایا کے اگر کوئی ہنگامی صورت حال ہو تو وہ مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت افسوس ناک بات ہے۔ ٹریفک معطل رہنے کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خاص طور پر ان لوگوں کو بہت ہی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو جلسے کے مقام کے قریب رہتے تھے۔

شہر میں پیدل چلنے والوں کو جگہ جگہ روک کر شناختی کارڈ چیک کیےجاتے رہے اس دوران سکیورٹی اہلکاروں اور لوگوں کے درمیان بعض مقامات پر تلخی ہوئی اور خواتین کو یہ کہا جاتا رہا کہ اگر ان کے پاس چاقو چھری ہے تو وہ جمع کرائیں ۔مقامی لوگوں نے اس صورت حال پر سخت نالاں تھے۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا خطاب سننے کے لیے جو لوگ آئے ان کو تلاشی لی گئی اس دوران ان کو گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنا پڑا ان میں سرکاری ملازمین کی بھی بہت بڑی تعداد تھی جن کو ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے جلسے میں اپنی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا تھا۔ جلسے میں اسکول کے بچوں کی بھی بڑی تعداد بھی لائی گئی۔

چھوٹے بچوں سمیت لوگ صبح آٹھ اور نو بجے کے درمیان جلسہ گاہ میں پہنچے اور وہ پورا دن وہاں بھوکے اور پیاسے رہے کیوں کہ ان کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ جماعت اسلامی نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سردار اعـجاز افضل نے کہا کہ اگر کشمیریوں کو یرغمال بناکر یوم یکجہتی منانا ہے تو پھر ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔

اسی بارے میں
امریکی حملے نہ ہوں: مشرف
21 January, 2006 | پاکستان
فوجی انخلاء کی تجویز مسترد
08 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد