BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی انخلاء کی تجویز مسترد
نوتیج سرنا
’بھارتی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائے گی‘
بھارت نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی اس تجویز کو رد کر دیا ہے کہ پاکستان بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں کے خاتمے میں بھارت کی مدد کر سکتا ہے اگر بھارت کشمیر میں سری نگر کے علاوہ، کپواڑہ اور بارہ مولا کے اضلاع سے اپنی فوجیں نکال لے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا کا صدر مشرف کے بیان پر کہنا تھا کہ’ کسی بھی علاقے سے فوج نکالنے یا بھیجنے کا فیصلہ کسی بھی ملک کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور کوئی دوسرا ملک اس معاملے میں حکم نہیں دے سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ’ایسے فیصلے ملک کے کسی بھی حصے میں موجود سکیورٹی خدشات کا جائزہ لینے کے بعد کیے جاتے ہیں اور جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو یہ علاقہ سرحد پار دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے اور وہاں بھارتی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائے گی‘۔

صدر مشرف نے بھارتی چینل ’سی این این۔آئی بی این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چلیے فی الحال تین شہروں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ ہم امن کے سفر میں آگے بڑھیں۔ وادئ کشمیر کے تین اہم شہر۔ سری نگر، کپواڑہ اور بارہ مولا۔ ان تینوں شہروں سے فوج کو باہر نکال کر مضافات میں تعینات کر دیا جائے۔ اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر کے اندر کہیں فوج نظر نہ آئے۔ پاکستان ان تینوں شہروں میں مکمل امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر بھارت اور کشمیر کے ساتھ کھڑا ہو گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ ذرا دیر کے لیے سوچیے کہ اس سے لوگوں کی زندگیاں کتنی آسان ہو جائیں گی۔ اس تجویز پر عمل کے لیے نہ کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔ صرف ایک انتظامی حکم کی ضرورت ہے‘۔

اس انٹرویو میں صدر مشرف نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لاہور آنے اور پاکستان انڈیا کرکٹ سیریز دیکھنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں انہیں یہاں آنے اور سیریز کا کوئی بھی میچ دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دعوت کا مقصد صرف کرکٹ نہیں بلکہ قیامِ امن کے عمل میں پیش رفت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ یہاں آئیں اور ہم قیامِ امن کے عمل میں پیش رفت نہ کر سکیں تو مجھے لگے گا کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں‘۔

پاکستانی اور بھارتی وزرائے خارجہنتھیا گلی کی سفارت
کشمیر پر پیش رفت ہے مگر تفصیلات مبہم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد