’شہروں سے بھارتی فوج ہٹا لی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نےکہا ہے کہ بھارت کشمیر کے بڑے شہروں سری نگر، کپواڑہ اور بارہ مولا سے اپنی فوجیں نکال لے اور دونوں ملک مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہاں کوئی تشدد نہ ہو۔ انہوں نے بھارتی چینل ’سی این این۔آئی بی این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فوج کو شہروں سے نکال کر مضافات میں لے جائیں اور پاکستان کی حکومت امن اور استحکام کے لیے بھارتی حکومت اور کشمیری عوام کے ساتھ ہو گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’چلیئے فی الحال تین شہروں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ ہم امن کے سفر میں آگے بڑھیں۔ وادئ کشمیر کے تین اہم شہر۔ سری نگر، کپواڑہ اور بارہ مولا۔ ان تینوں شہروں سے فوج کو باہر نکال کر مضافات میں تیعنات کر دیا جائے۔ اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر کے اندر کہیں فوج نظر نہ آئے۔ پاکستان ان تینوں شہروں میں مکمل امن و امان کو یقینی بنانے کے لیئے مکمل طور پر بھارت اور کشمیر کے ساتھ کھڑا ہو گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ ذرا دیر کے لیے سوچیئے کہ اس سے لوگوں کی زندگیاں کتنی آسان ہو جائیں گی۔ اس تجویز پر عمل کے لیے نہ کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔ صرف ایک انتظامی حکم کی ضرورت ہے‘۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لاہور آنے اور پاکستان انڈیا کرکٹ سیریز دیکھنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں انہیں یہاں آنے اور سیریز کا کوئی بھی میچ دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں‘۔ تاہم ان کی دعوت کا مقصد صرف کرکٹ نہیں بلکہ قیامِ امن کے عمل میں پیش رفت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ یہاں آئیں اور ہم قیامِ امن کے عمل میں پیش رفت نہ کر سکیں تو مجھے لگے گا کہ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں‘۔ پاکستانی صدر مشرف کا یہ انٹرویو مذکورہ چینل پر اتوار کو نشر کیا جائے گا تاہم اس کے اقتباسات چینل کی ویب سائیٹ پر شائع کیے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر 04 October, 2005 | پاکستان دہلی میں پاکستان کی کامیابی؟20 April, 2005 | پاکستان ’صرف کرکٹ دیکھنے نہیں جا رہا‘15 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||