کشمیر نہ سہی کچھ اور سہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ختم ہوچکا ہے اور جاری کردہ مشترکہ بیان سے پتہ چلتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے علاوہ دیگر معاملات پر کچھ نہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ پاکستان نے پہلے دن سے بات چیت میں مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھا ہے جبکہ بھارت کی ترجیح میں شاید سب سے آخری نکتہ یہ ہے۔ پاکستان نے کشمیر اور سیاچین کے امور پر بات چیت کے لیے اسلام آباد کے بجائے صوبہ سرحد میں واقع نتھیا گلی جیسے پرفضا سیاحتی مقام کا انتخاب کیا لیکن پھر بھی بظاہر لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوپائی۔ نتھیا گلی کی سیاحتی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جو امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے حوالے سے یاد کی جاتی ہے۔ ہوا یہ تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور بظاہر امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر آٹھ جولائی سن انیس سو اکہتر کو پاکستان آئے اور نو جولائی کی صبح کو وہ خفیہ طور پر صدر یحیٰی کے طیارے میں چین روانہ ہوگئے اور گاڑیوں کا ایک قافلہ نتھیا گلی روانہ کیا گیا۔ میڈیا کو بتایا گیا کہ ہینری کسنجر نتھیا گلی گئے ہیں جبکہ وہ چین چلے گئے تھے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد گیارہ جولائی کو واپس اسلام آباد آئے اور پندرہ جولائی کو امریکی صدر نکسن نے اس خفیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے چین سے تعلقات کا اعلان کیا۔ اس پس منظر میں جب نٹور سنگھ کو ان کے ہم منصب نتھیا گلی لے گئے تو صحافیوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جو کسنجر کے وقت ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے وزارء خارجہ کی ’نتھیا گلی ملاقات‘ کے بعد پریس کانفرنس میں بھارت کے سیکرٹری خارجہ شیام سرن نے پریس کانفرنس کی اور اپنا موقف دہرایا کہ بھارت کشمیر کے نقشے میں تبدیلی کے خلاف ہے۔ ایک گھنٹے بعد اپنے مہمان ہم منصب کے خیالات کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ریاض محمد خان نے پریس کانفرس کی جس میں انہوں نے بھی پرانا راگ دہرایا کہ کشمیر پر پیش رفت ہورہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت کہتا ہے کہ وہ کشمیر کی لکیروں کی تبدیلی کے خلاف ہے تو پیش رفت کیا ہو رہی ہے؟ تو پاکستانی سفارتکار ریاض محمد خان کا کہنا تھا کہ جب دونوں ممالک کے نمائندے اپنے ظاہری موقف سے ہٹ کر سوچتے ہیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے۔ قصوری نٹور ملاقات سے پہلے مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ شاید اس ملاقات پر نیو یارک میں گزشتہ ماہ کے وسط میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ملاقات میں ہونے والی سردی گرمی کا سایہ پڑے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نیو یارک میں جب صدر مشرف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تو ان کی تقریر میں دو برسوں کے وقفے کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے جملے دوبارہ سننے کو ملے۔ جس پر بھارت والے خاصے پریشان ہوگئے کہ اچانک پاکستان کو کیا ہوگیا؟ کہیں امریکہ نے انہیں کوئی نئی لائن تو نہیں دی۔ خیر پاکستانی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کا قصہ سناتے ہوئے ایک سینیر افسر نے بتایا کہ جیسے ہی صدرِ پاکستان ملاقات کے لیے پہنچے تو بھارتی وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ آپ نے زیادتی کی ہے۔ ان کے مطابق صدر پاکستان پریشان ہوئے کہ آخر ان سے ہوا کیا ہے۔ قصہ مختصر کہ جب تفصیلی ذکر ہوا تو صدرِ پاکستان نے وضاحت کی کہ ان کے متعلقہ الفاظ سے صرفِ نظر کیا جائے اور یوں دونوں ممالک میں دو برسوں سے جاری جامع مزاکرات کا عمل ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ پوری ملاقات کا زیادہ وقت صفائی اور وضاحت میں گزر گیا اور مسئلہ کشمیر تو کیا مذاکرات کے آٹھ نکات میں سے کسی پر بھی بات نہیں ہوئی اور ملاقات کا وقت ختم ہوا۔ سینیئر افسر نے بتایا کہ جب گلے شکوے دور ہوئے تو پھر کہا گیا کہ مذاکرات کے مفاد میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے جس میں بات چیت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اصل میں صدر مشرف کے اس دورے کے دوران دفتر خارجہ کا پورا زور ’جیوئش فورم‘ سے خطاب کے بارے میں تقریر کی تیاری پر تھا کہ کہیں کوئی جملہ غلط نہ ہوجائے اور جنرل اسمبلی کی تقریر ایک جونیئر افسر نے تیار کی۔ ان کے بقول صدر کی جنرل اسمبلی کی تقریر کسی نے آخری وقت تک پڑھی ہی نہیں خود صدر نے بھی گاڑی میں جاتے ہوئے اس پر سرسری نظر ڈالی تھی۔ بہرحال دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں نیو یارک ملاقات میں ہونے والی تلخی کا سایہ نظر نہیں آیا اور بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات کے دوران بھارت نے خصوصی طور پر میڈیا سنٹر قائم کیا تھا اور اپنے چار سینیئر سفارتکار صحافیوں کو معلومات ’فیڈ‘، کرنے کے کام پر لگایا تھا جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی حالت یہ تھی کہ کوئی افسر ملنا اور کچھ بتانا تو دور کی بات ہے فون پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے چند ماہ کے اندر تین ترجمان تبدیل ہو چکے ہیں۔ منگل کی شام گئے بتایا گیا کہ موجودہ ترجمان نعیم خان کو فلپائن میں سفیر لگایا گیا ہے اور ان کی جگہ تسنیم اسلم کو نیا ترجمان لگایا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے کہا ہے کہ جامع مزاکرات کے تیسرا دور جو جنوری سے جولائی تک ہونا ہے اس میں مزید پیش رفت متوقع ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ پیش رفت پاکستانی اعتبار سے ہوگی یا بھارت کے نکتہ نظر سے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||