پولیس چیکنگ ختم کرنے پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے کہا ہے پاکستان سے بھارت آنے والے تاجروں کے لیےضروری پولیس چیکنگ کی شرط ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار کو فروغ ہو۔ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور تاجروں کے نمائندوں سے بات چیت کے بات نٹور سنگھ نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی حکومت پاکستانی عازمینِ سفر کے لیے ویزا پالیسی میں مزید نرمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس برس دسمبر یا اگلے برس جنوری تک امکان ہے کہ بھارت آنے والے پاکستانی تاجروں کے لیے پولیس چیکنگ کی ضروری شرط کو ختم کر دیا جائے۔ کراچی میں اپنے قیام کے دوسرے دن وفاقی ایوان صنعت وتجارت کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں سرجیکل اور طب جیسے کئی شعبے موجود ہیں جن پر دو طرفہ کاروبار کیا جاسکتا ہے جس سے دونوں ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھوکھراپار سے جنوری میں ریل سروس شروع ہوجائےگی جبکہ کراچی اور ممبئی میں سفارتخانے کھلنے کے بعد عوام اور نزدیک آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کھوکھراپار سرحد کھولنے کی مخالفت کر رہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نٹور سنگھ نے بتایا کہ سارک ممالک میں ویزے کا شرط ختم کرنے پر بھی مذاکرات ہورہے ہیں مگر یہ بعد کی باتیں ہیں۔ بھارتی وزیر سے اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار، انور خان، سینیئر سیاستدان سردار شیر باز مزاری، ممتاز علی بھٹو اور کالم نویس اردشیر کاؤس جی نے ملاقات کی۔ مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ انہوں نے نٹور سنگھ کو پاکستان کی سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا اور ان سے کھوکھراپار سرحد اور کشمیر پر بات چیت کی۔ ان کے مطابق نٹور سنگھ کا کہنا تھا کہ کھوکھراپار اور کشمیر ہمارے ایجنڈے میں شامل ہیں اور دونوں ممالک ہم آہنگی اور اتفاق کی طرف بڑہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ انہوںنے بھارتی وزیرِخارجہ سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ کراچی اور ممبئی کو جڑواں شہر قرار دیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||