BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 June, 2006, 21:38 GMT 02:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رؤف کشمیری: دو ملکوں کا قیدی

رؤف کشمیری
جج میاں نجم الزماں نے حکومت کو تیس جون تک کی مہلت دی ہے
پندرہ سال بھارت میں قید کاٹ کر آنےوالے ایک کشمیری شخص پاکستان تو واپس پہنچ گئے ہیں لیکن ان کے بیوی بچوں کے بقول وہ ان کی بجائے سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس ہیں۔

پیر کے دن لاہور کی عدالت عالیہ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک باشندے رؤف خان عرف رؤف کشمیری کی بیوی تسنیم اختر نے درخواست دائر کی کہ وہ پندرہ سال بھارت میں قید رہنے کے بعد تین ماہ پہلے لاہور پہنچے تو انہیں سکیورٹی ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا اور اب تک حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے۔

وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ظفر اقبال عدالت عالیہ میں پیش ہوئے۔ انہوں نے جج سے کہا کہ انہیں جواب دینے کے لیے مہلت دی جائے تاکہ وہ مرکزی حکومت سے ہدایات لے سکیں۔ جج میاں نجم الزماں نے انہیں تیس جون تک کی مہلت دی ہے۔

تسنیم اختر نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے شوہر رؤف خان کو چوبیس جون سنہ انیس سو اکیانوے کو مقبوضہ کشمیر میں حراست میں لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رؤف خان کو بھارت کے قانون ٹاڈا کے تحت دہشت گردی کے الزام میں دس سال کی سزا دی گئی جو گیارہ نومبر سنہ دو ہزار کو پوری ہوگئی۔ اس عرصہ میں وہ جودھ پور جیل میں قید رہے۔

تسنیم اختر کا کہنا ہے کہ سزا مکمل ہوجانے کے باوجود ان کے شوہر کو رہا نہیں کیا گیا اور سیفٹی ایکٹ کے تحت قید میں رکھا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے رؤف خان کی قید کا معاملہ بھارت کی سپریم کورٹ میں اٹھایا جس نے انہیں رہا کرنے اور بھارت سے نکال دینے کا حکم دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس سال سترہ مارچ کو بھارت اور پاکستان کے درمیان واہگہ کے ذریعے قیدیوں کا تبادلہ ہوا تو ان کے شوہر کو واہگہ پولیس نے حراست میں لے لیا اور انہیں بتایا کہ اس نے انہیں رینجرز کے حوالہ کردیا ہے۔

تسنیم اختر کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو کسی الزام کے بغیر سکیورٹی ایجنسیوں نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور انہیں رہا کیا جائے۔

کشمیر کی رہنے والی تسنیم اختر ان دنوں لاہور کے شاہ عالمی دروازہ میں مقیم ہیں۔

عدالت عالیہ تیس جون کو اس درخواست کی دوبارہ سماعت کرے گی۔

بھارت سے رہا ہوکر آنےوالے بیشتر پاکستانی قیدیوں کو پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں فوری طور پر اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں۔

اسی بارے میں
صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی
12 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد