BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی آئین کےتحت حل قبول نہیں‘

میر واعظ عمرفاروق
انہوں نےمسئلہ کشمیر کو ایک پیچیدہ معاملہ قرار دیا
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے علیحٰدگی پسند جماعتوں کے اتحاد’کل جماعتی حریت کانفرنس‘ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں سیلف گورنینس سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی بھی پیش رفت بھارتی آئین کے تحت قبول نہیں ہے۔

گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان کے اپنے دوسرے دورے کے موقع پر میر واعظ عمر فاروق، عبدالغنی بھٹ اور بلال غنی لون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خودمختاری اور سیلف گورنینس علیحٰدہ چیزیں ہیں۔ ان کے مطابق خودمختاری بھارتی آئین کے تحت ہے جبکہ سیلف گورنینس بھارتی آئین سے باہر کی تجویز ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان ہی صرف پیش رفت کر رہا ہے اور بھارت لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق بھارت نے حریت رہنماؤں سے کبھی نہیں کہا کہ وہ بھارتی آئین کے تحت کوئی حل نکالنے کے لیے بات کرنا چاہتا ہے۔

کشمیری علیحٰدگی پسند رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اس وقت پیچھے ہٹ کر کھیل رہا ہے اور پاکستان جو بھی تجویز دیتا ہے اس پر انہیں کچھ نہ کچھ جواب دینا پڑتا ہے۔

ان رہنماؤں کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر نے تسلیم کیا ہے کہ در پردہ سیلف گورنینس سمیت مختلف تجاویز پر بات چیت ہورہی ہے۔

انہوں نے کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے اور سیلف گورنینس کی پاکستان کی تجاویز کی حمایت کی اور کہا کہ یہ کشمیر کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق ان تجاویز پر پیش رفت ہوسکتی ہے۔

کشمیری رہنماؤں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے بارے میں پرانے موقف سے دستبردار ہونے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت جذبات سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کا مشاہدہ کرکے آگے بڑھنا ہے۔

کشمیری رہنماؤں کے اندر سخت اختلافات اورمتحد نہ ہونے کے بارے میں میر واعظ نے کہا کہ دنیا کی کسی تحریک میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا اور کشمیر کے معاملے میں بھی اتفاق رائے کے بنا ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

 کشمیری رہنما اس وقت پاکستان آئے ہیں جب ایک ہفتے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے تحت تیسرے مرحلے کی بات چیت شروع ہونے والی ہے۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک پیچیدہ معاملہ قرار دیا اور کہا کہ حل کی طرف پیش رفت سست رفتار تو ہے لیکن آگے چل کر کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔

کشمیری رہنماؤں کے دورے کا بنیادی مقصد تو زلزلے سے متاثرہ کشمریوں سے اظہار یکجہتی کرنا تھا لیکن اس دوران انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سمیت پاکستانی حکام سے بھارت کے ساتھ جاری بات چیت میں پیش رفت کے بارے میں مشاورت کی۔

کشمیری رہنما اس وقت پاکستان آئے ہیں جب ایک ہفتے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے تحت تیسرے مرحلے کی بات چیت شروع ہونے والی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد