پنڈتوں کو حریت رہنماؤں کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز حریت کانفرنس نے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری پنڈتوں کو انیس جولائی کو سرینگر میں ملاقات کی دعوت دی ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے جموں میں بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد کشمیری پنڈتوں کی علاقے میں واپسی پر بات کرنا ہے۔ تین لاکھ سے زیادہ کشمیری پنڈت پندرہ برس قبل اس وقت کشمیر سے جموں اور دیگر علاقوں میں ہجرت کر گئے تھے جب اس علاقے میں علیحدگی پسند تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ حریت کانفرنس کے ترجمان سید سلیم گیلانی نے بتایا کہ یہ ملاقات جسے کشمیری پنڈتوں اور حریت کانفرنس کے درمیان رابطے کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، علاقے میں رہنے والے کشمیری مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے ایک پیغام ہے کہ انہیں اکٹھا ہو جانا چاہیے۔ سلیم گیلانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ پہلی ملاقات زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو تاہم اس ملاقات کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پہلی ملاقات میں تمام ہندو پنڈت شریک نہ ہوں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں ضرور بہتری آئے گی۔ اس ملاقات میں حصہ لینے والے آل انڈیا کشمیری ہندو فورم کے سربراہ رتن لعل بھان کا کہنا ہے کہ’حریت رہنماؤں نے ہمیں غیرمشروط بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے اور اگر ہم واپسی کے لیے سنجیدہ ہیں تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ ابتدا میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم یہ ابتدا ہے اور ہمیں حریت کی حمایت کرنی چاہیے‘۔ ایک اور ہندو مہاجر اندر کرشن متو کا کہنا تھا کہ’ اگر حریت ہماری واپسی چاہتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کشمیری مسلمان ہماری واپسی کے خواہاں ہیں کیونکہ کشمیر میں حریت ہی ان کی نمائندہ ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||