حریت کو کانگریس کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں منموہن سنگھ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کشمیری رہنماؤں سے یہ ان کی پہلی بات چیت ہوگی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے اعتدال پسند دھڑے سے بات چیت کا یہ دور پانچ ستمبرکو دہلی میں ہو گا۔ اس سے قبل کشمیری علیحدگی پسند رہنما سابق ہندو قوم پرست حکومت سے مذاکرات کے دو دور کر چکے ہیں۔ اے پی ایچ سی کے سخت گیر مؤقف کے حامل رہنماؤں نےان مذاکرات کی مخالفت کی تھی۔ حریت کانفرنس اور کانگریسی حکومت کے درمیان گزشتہ سال اگست میں ہونے والے مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب علیحدگی پسند رہنماؤں نے دہلی کی جانب سے لگائی شرائط پر اعتراضات کیے تھے۔ جون میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چئیرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنےدھڑے کی جانب سےمذاکرات کے دوبارہ آغاز کی خواہش دہلی حکومت کو بھجوادی ہیں۔ میر واعظ نے کہا ہے کہ انہوں نے دہلی کی مذاکرات کی اس دعوت کو قبول کر لیا ہے اور وہ بات چیت کے لیے دہلی جائیں گے۔ ان مذاکرات میں متنازعہ نقطہ یہ ہے کہ کشمیری رہنما کشمیر کےمستقبل کے بارے میں ہونے والی بات چیت کوسہ فریقی مذاکرات کی صورت میں چاہتے ہیں۔ جس میں بھارت کے علاوہ پاکستان بھی شریک ہو۔ اس سال جون میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کےاعتدال پسند رہنماؤں نے پاکستان کادورہ کیا تھا اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیری رہنماؤں کےاس دورے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ کشمیری رہنماؤ ں نےاس دورہ کو کامیاب قرار دیا تھا۔ بھارت اور پاکستان دونوں کشیمر کواپنا حصہ تسلیم کرتے ہیں اور دونوں ممالک میں اس پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||