’ہفتہِ خود مختار کشمیر‘ کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف آج سے ’ہفتِہ خود مختار کشمیر‘ منارہی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ خود مختار کشمیر کی حامی کوئی تنظیم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہفتہ خود مختار کشمیر منارہی ہو۔ اسکا انعقاد ایک ایسے مرحلے پر کیا جارہا ہے جب کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتہ خودمختار کشمیر منانے کا مقصد نظریہ خودمختاریِ کشمیر کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیاجائے۔ جے کے ایل ایف کے امان اللہ خان کے دھڑے نے ہفتہِ خود مختار کشمیر کا آغاز ایک جلسے سے کیا۔ یہ جلسہ سنیچر کی شام کو کشمیر کے جنوبی ضلع کوٹلی کے صدر مقام پر منعقد ہوا جس میں سیکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ جے کے ایل ایف کا کہناہے کہ ہفتہِ خود مختار کشمیر کا آغاز 13 اگست سے اس لئے کیا گیا کیوں کہ سن 1948 میں اسی روز اقوام متحدہ نے کشمیر کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں کشمیریوں کے حق خود مختاری کو بھی تسلیم کیا گیا تھا۔ اس جلسے سے خطاب کے دوران جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان نے نظریہ خودمختار کشمیر اور کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لئے تنظیم کے فارمولے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ امان اللہ خان نے کہا ہفتہِ خود مختار کشمیر منانے کا مقصد پاکستانی اور کشمیری قوم کو نظریہ ِخود مختار کشمیر اور کشمیر کے مسلے کو حل کرنے کے لئے جے کے ایل ایف کے پیش کردہ فارمولے کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ جے کے ایل ایف کے فارمولے کے تحت منقسم ریاست جموں و کشمیر کودوبارہ متحد کرکے ایک خودمختار مملکت بنایا جائے۔ پندرہ سال بعد اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک آزادنہ اور شفاف استصواب رائے کروایا جائے جس میں کشمیری عوام یہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ آزاد و خودمختار رہنا چاہتے ہیں ، ہندوستان یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلے کا کوئی اور حل نکالا جائے۔ مسڑ خان کا کہنا تھا کہ ان کا پیش کیا گیا فارمولہ ہی کشمیر کے تنازعے کا مستقل،قابل عمل، منصفانہ اور آبرومندانہ حل فراہم کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ اعلان کیا کہ کشمیر کے مسلے کا واحد حل خود مختار کشمیر ہی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہفتہ خود مختار کشمیر منایا جارہا ہے اور یہ ایک ایسے مرحلے پر منایا جارہا ہے جب کشمیر کے مسلے کے حل کے بارے میں مقامی اور بین الااقوامی سطح پر مختلف تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران کشمیر کے اس علاقے میں جلسے ، جلوس ، مظاہرے منعقد کئے جائیں گے اور لوگوں میں لٹریچر تقسیم کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||