| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دوطرفہ مذاکرات: مخالف نہیں ہیں‘
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک بڑی علیحدگی پسند تنظیم جے کے ایل ایف نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات کی مخالفت نہیں کرے گی۔ جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سے قبل ان کی تنظیم کشمیری نمائندوں کے بغیر مسئلہ کشمیر پر کسی بھی طرح کے مذاکرات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ تاہم اب انہیں وزیراعظم واجپئی اور صدر جنرل مشرف کے بیانات سے امید ہو چلی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا ایسا حل ڈھونڈے کے خواہشمند ہیں جو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے لئے مشترکہ طور پر قابل قبول ہو۔ یاسین ملک نے کہا کہ سارک سربراہ کانفرنس سے ایک ایسا موقعہ ہاتھ آیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے سربراہ غیر رسمی طور پر ہی صحیح مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم سارک کانفرنس کے موقع پر مسئلہ کشمیر سے متعلق کسی غیر رسمی بات چیت کے خلاف نہ تو مظاہرہ کرے گی اور نہ ہی ہڑتال۔ البتہ مذاکرات کے اگلے کسی مرحلہ پر کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||