BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2003, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دوطرفہ مذاکرات: مخالف نہیں ہیں‘
یاسین ملک
’پاکستان اور بھارت کو سارک اجلاس کے موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک بڑی علیحدگی پسند تنظیم جے کے ایل ایف نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات کی مخالفت نہیں کرے گی۔

جے کے ایل ایف کے چیئرمین یاسین ملک نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سے قبل ان کی تنظیم کشمیری نمائندوں کے بغیر مسئلہ کشمیر پر کسی بھی طرح کے مذاکرات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

تاہم اب انہیں وزیراعظم واجپئی اور صدر جنرل مشرف کے بیانات سے امید ہو چلی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا ایسا حل ڈھونڈے کے خواہشمند ہیں جو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے لئے مشترکہ طور پر قابل قبول ہو۔

یاسین ملک نے کہا کہ سارک سربراہ کانفرنس سے ایک ایسا موقعہ ہاتھ آیا ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے سربراہ غیر رسمی طور پر ہی صحیح مسئلہ کشمیر پر بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم سارک کانفرنس کے موقع پر مسئلہ کشمیر سے متعلق کسی غیر رسمی بات چیت کے خلاف نہ تو مظاہرہ کرے گی اور نہ ہی ہڑتال۔

البتہ مذاکرات کے اگلے کسی مرحلہ پر کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد