حریت رہنما: دورۂ پاکستان پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جنتا پارٹی نے حریت کانفرنس کے بعض رہنماؤں کے حالیہ پاکستانی دورے کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ حریت رہنما پرمٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان گئے جبکہ انہیں صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک جانے کی اجازت تھی۔ درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان رہنماں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس درخواست میں عدالت سے اس بات کی التجا کی گئی ہے کہ ساتھ ہی عدالت ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کرے جنہوں نے حریت رہنماؤں کی طرف سے پرمٹ کی خلاف ورزی کے باوجود کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا ہے۔ درخواست گزار جنتا پارٹی کے صدر سوم ناتھ دسگوترہ کے مطابق سرینگر مظفرآباد بس سروس صرف ان لوگوں کے لیے ہونی چاہیے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے رشتے داروں سے ملنا چاہتے ہیں۔ مسٹر دسگوترہ کے وکیل کے جے سنگھ کا کہنا ہے کہ حریت رہنماؤں نے پرمٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے ۔ درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ عدالت مرکزی اور ریاستی حکومت کو حکم دے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حال میں ہوئے معاہدے کے دستاویز بھی عدالت کے سامنے رکھے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کے ’ٹریول پرمٹ سسٹم‘ کا معاہدہ کیا ہے۔ مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’عدالت سے اس بات کی بھی درخواست کی گئی ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں بھی تفصیلات حاصل کرنی چاہیے جو ضرورت سے زیادہ وقت ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں رکے ہیں‘۔ انکا کہنا ہے کہ ’پاکستان سے آنے والے مسافر اگر دیر تک ہندوستارن کے زیر انتظام کشمیر میں رکتے ہیں تو یہاں کی سکیورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||