کشمیری بچے کی شہریت کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سال اکتوبر کے زلزلے میں مظفرآباد میں بھارت کی شہریت رکھنے والی کشمیری خاتون اور ان کے پاکستانی شوہر کی ہلاکت کے بعد ان کے ڈھائی سالہ بچے کی شہریت کا مسئلہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے لیئے تاحال بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شہر سرینگر سے ستر سالہ بزرگ عبدالاحد اپنے معصوم پوتے کو ساتھ لے جانے کے لیے گزشتہ تین ماہ سے پاکستان میں موجود ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کی حکومتیں یہ طے نہیں کر پا رہیں کہ بھارتی ماں سے پاکستان میں پیدا ہونے والے اس بچے کو کس ملک کا پاسپورٹ اور کس کا ویزا ملنا چاہیے۔ عبدالاحد نے پیر کو ملاقات میں بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان حکومت نے بچے کو شہریت نہیں دی لیکن اتنی مہربانی ضرور کی ہے کہ انہیں سرینگر لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کے مطابق اب معاملہ بھارتی ہائی کمیشن میں اٹکا ہوا ہے کہ اگر یہ بچہ سرینگر جائے تو آیا بھارت کے پاسپورٹ پر یا اس کے ویزا پر۔ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے رہائشی محمد اسحاق اور ان کی بیگم فاطمہ اسحاق ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا سدیس اور ڈھائی سالہ موویز زندہ بچ گئے تھے۔
عبد الاحد نے بتایا کہ ان کا بیٹے محمد اسحاق انیس سو چھیانوے میں سرینگر سے مظفر آباد آگئے اور بھارتی شہریت چھوڑ کر پاکستانی شہریت حاصل کرلی تھی جبکہ ان کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نامی خاتون اپنے رشتہ داروں سے ملنے جب مظفر آباد آئیں تو ان کی محمد اسحاق سے سن دو ہزار میں شادی ہوگئی اور حاملہ ہونے کے بعد سن دوہزار ایک میں وہ واپس سرینگر چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ فاطمہ اسحاق نے سرینگر میں ایک بیٹے کو جنم دیا اور ان کا نام سدیس رکھا گیا۔ فاطمہ سن دو ہزار دو میں خود اور اپنے بیٹے سدیس کے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرکے دوبارہ مظفر آباد آئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگیں۔ انہوں نے ایک اور بیٹے کو مظفر آباد میں قیام کے دوران ڈھائی برس قبل جنم دیا اور اس کا نام موویز رکھا گیا جس کی شہریت کا معاملہ اب پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے لیے کشمیر کے تنازعے جیسی ہی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تو ان کے بڑے پوتے سدیس کی مقررہ مدت سے زیادہ قیام اورچھوٹے پوتے موویز کی شہریت کا معاملہ پیدا ہوا۔ عبدالاحد نے بتایا کہ انہوں نے خاندان کے بچے ہوئے افراد سے جب مشاورت کی تو سب نے کہا کہ سدیس اور موویز کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ ان کی تربیت سرینگر میں دادا کے زیرِ سایہ ہو۔ جس کے بعد ان کے مطابق جب انہوں نے اپنے پوتوں کو ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو کئی قانونی پیچیدگیاں آڑے آئیں۔ عبدالاحد نے بتایا کہ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کیے اور پاکستانی حکام نے انہیں اپنے پوتوں کو واپس لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن اب انہیں بھارتی ہائی کمیشن سے جواب کا انتظار ہے۔
ڈھائی سالہ موویز اپنے والدین کی ہلاکت کے بعد ماموں کے ہمراہ رہتے ہیں۔ ملاقات کے دوران بھی دادا سے وہ دور ہی نظر آئے اور ماموں کی گود میں بیٹھے رہے۔ اس بارے میں سوال پر عبدالاحد نے کہا کہ چھوٹے بچے ہیں ابتدا میں واپس سرینگر جاکر روئیں گے لیکن بعد میں ٹھیک ہوجائیں گے۔ عبدالاحد نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازعہ اپنی جگہ لیکن وہ تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ گزشتہ سال اکتوبر کے زلزلے کے نتیجے میں نہ ان کا بیٹا رہا اور نہ ہی بہو۔ اب ان کی نشانی یہ دو پوتے ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان بچوں کا پاسپورٹ کس ملک کا ہو اور ویزا کس ملک کا لیکن جس طرح بھی ممکن ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لے جانے کے لیئے بے تاب ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ جس طرح بھی ممکن ہو انہیں پوتے ساتھ لے جانے کی اجازت دیں۔ | اسی بارے میں بھارت: دوہری شہریت کی اجازت07 January, 2005 | انڈیا بھارتی شہریت کی درخواست مسترد23 April, 2005 | انڈیا بھارت: دُہری شہریت، بل منظور16 June, 2005 | انڈیا شہریت کی خواہش، 7 سال قید 17 July, 2005 | انڈیا شوہر ملا، شہریت نہیں08 July, 2004 | پاکستان مورین: برطانوی سماجی کارکن، پاکستانی شہریت20 September, 2004 | پاکستان بھارتی خاتون، پاکستانی شہریت25 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||