بھارتی خاتون، پاکستانی شہریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے مردان علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نوجوان کی بھارتی بیوی کو حکومت نے بالآخر پاکستانی شہریت دے دی ہے۔ اسلام آباد میں سیکرٹری داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے تحت ہوتی مردان کے امان خان کی پچیس سالہ بیوی ڈاکٹر حفصہ امان کو شہریت دے دی گئی ہے۔ البتہ اپنے ردعمل میں میاں بیوی نے اس اقدام میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا۔ بھارت میں کیرالہ ریاست سے تعلق رکھنے والی ماضی کی دیویا دیانن کا کہنا تھا کہ’اگر شہریت دینی ہی تھی تو پہلے دی جاتی تاکہ ہم اس ذہنی کوفت اور دباؤ سے بچ جاتے تو اس کیس کے دوران ہمیں اٹھانی پڑی۔‘ امان خان انیسو پچانوے میں یوکرائن طبی تعلیم کے لئے گیا جہاں اس کی ملاقات بھارتی لڑکی دیویا دیانن سے ہوئی۔ گزشتہ برس لڑکی نے پاکستان آکر اسلام قبول کرلیا، مسلمان نام حفصہ رکھ لیا اور امان سے شادی کر لی۔ امان نے اپنی بیوی کی شہریت کے لئے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا لیکن اس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت نے حفصہ کو تیس جون تک ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے خلاف شوہر نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے اس سرکاری اقدام کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔ عدالت نے اس درخواست پر حتمی فیصلے تک اسے ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیا اور وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی ہے۔ گذشتہ ماہ تین اگست کو ڈاکٹر حفصہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد شاہان خان رکھا گیا ہے۔ اس سرکاری فیصلے سے اس بھارتی خاتون کی شہریت کے لئے قانونی جنگ اب ختم ہوجائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||