شوہر ملا، شہریت نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن چند لوگوں کے لیے یہ فی الحال بے معنی ہے۔ ان میں ایک بھارتی خاتون ڈاکٹر حفصہ امان بھی شامل ہیں جن کو شکایت ہے کہ انہیں ایک پاکستانی سے شادی کے باوجود اِس ملک کی شہریت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ان کی قانونی جنگ جاری ہے۔ پچیس سالہ ڈاکٹر حفصہ کی کہانی بھی ایک رومانوی داستان سے کم نہیں ہے۔ یہ بات ہے انیس سو پچانوے کی۔ اس وقت ان کا نام تھا دیویا دیاننددن اور ان کا تعلق جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ سے تھا۔ انیس سو پچانوے میں وہ طب کی تعلیم کے لئے یوکرائن گئیں جہاں ان کی مردان کے ایک پٹھان لڑکے امان خان سے ملاقات ہوئی۔ بات آگے بڑھی اور دونوں میں پیار ہوگیا۔ امان تعلیم چھوڑ کر انیس سو اٹھانوے میں واپس پاکستان آ گئے لیکن دونوں میں ای میل اور چیٹنگ کے ذریعے رابطہ رہا۔ دیویا بھی ڈاکٹری مکمل کر کے گزشتہ برس پاکستان آئیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد امان سے شادی رچا لی۔ انہوں نے اپنا نام بھی تبدیل کرکے حفصہ امان رکھ لیا۔ لیکن فلموں کی طرح شادی کے ساتھ ہی بات ختم نہیں ہوئی۔ وہ ہنسی خوشی تو رہنے لگے لیکن انہیں ایک غیر متوقع مسلئے نے گھیر لیا۔ وہ تھا پاکستانی حکومت کا انہیں شہریت دینے سے انکار اور ملک چھوڑ دینے کا حکم۔ اس حکم پر امان نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا۔ پشاور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا کہ کس وجہ سے وہ اس خاتون کو شہریت دینے سے انکار کر ری ہے۔ جمعرات آٹھ جولائی کو عدالت نے یہ مسلہ دوبارہ غور کے لئے اٹھایا تو وزارت داخلہ نے جواب کے بجائے مزید ایک ماہ کا وقت طلب کیا۔ عدالت نے سستی پر سرکاری وکیل کو ڈانٹا اور صرف پندرہ دن کی مہلت دی۔ بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ڈاکٹر حفصہ نے حکومت پاکستان کے انکار پر حیرت کا اظہار کیا۔ ’مجھے نہیں معلوم یہ لوگ شہریت کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ مگر یہ تو زیادتی ہے کہ میں نے ایک اسلامی ملک میں آکے اسلام قبول کیا ہے لیکن اس کے باوجود شہریت نہیں دے رہے ہیں۔‘ ڈاکٹر حفصہ مردان کے ایک مقامی ہسپتال میں کام کرتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر انہیں شہریت نہ ملی تو وہ کیا کریں گی انہوں نے کہا کہ ’مجھے واپس جا کر ہندو مذہب اختیار کرنا ہوگا۔ میرے والدین مجھے مار دیں گے۔ وہ میرے فیصلے سے ہرگز خوش نہیں۔‘ حفصہ کے والد سعودی عرب جبکہ والدہ بھارت میں ہیں۔ ’میری ان سے ایک دو بار ہی ٹیلفون پر بات ہوئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان آکر ایڈجسٹ ہونے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ ’ہماری تقریباً ایک ہی ثقافت ایک ہی طور طریقے ہیں فرق صرف مذہب کا ہے جو میں نے ختم کر دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے فیصلے پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ ’میں خوش ہوں اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں امت کو بڑھا رہی ہوں۔‘ حفصہ کے شوہر امان کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی انہیں ہمیشہ طعنے دیتی رہتی ہے کہ ان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کیا کر رہا ہے۔ ’اس کا کہنا ہے اسے تو تمغہ ملنا چاہیے مگر اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔’ امان پرامید ہیں کہ ان کی شنوائی ہوگی۔ ’نا میرے نہ ہی میرے خاندان کے کسی فرد کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ یا کارروائی ہوئی۔ میں نے اچھا کام کیا ہے اس کا صلہ مجھے ملے گا۔‘ ان کے وکیل عثمان خان بھی ان سے زیادہ پرامید اور مطمئن نظر آتے ہیں۔ ’پاکستان شہریت کی دفعہ دس(ب) کے تحت کوئی عورت کسی پاکستانی سے شادی کی صورت میں پاکستانی تصور کی جائے گی۔ یہ اس کا حق ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ اصل مسلئہ حفصہ کی بھارتی شہریت ہے۔ ’اگر یہ کسی اور ملک سے تعلق رکھتی تو اب صورتحال بلکل مختلف ہوتی۔‘ امان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کی پہل تو انہوں نے حفصہ سے شادی کر کے گزشتہ برس کر دی تھی۔ ’لیکن اس کا ہمیں کیا فائدہ ہوا الٹا عدالتوں کے چکر لگ گئے۔‘ حفصہ حاملہ ہیں اور انہیں پہلے بچے کی توقع اگلے ماہ ہے۔ لیکن سوال اب یہ ہے کہ آیا یہ بچہ ایک بھارتی ماں کے ہاں پیدا ہوگا یا پاکستانی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||