BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہریت کی خواہش، 7 سال قید
آسٹریلیا
آسٹریلیا میں امیگریشن کے قوانین بہت سخت ہیں
آسٹریلیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں سب سے زیادہ لمبے عرصے تک قید رہنے والے شخص کو رہا کیا جانے والا ہے۔ ان کا تعلق بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہے

آسٹریلیا میں امیگریشن کے وزیر امینڈا وانسٹون کا کہنا ہے کہ اکتیس سالہ پیٹر قاسم کو رہا کر دیا جائے گا جبکہ اس کے کیس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

حزب اختلاف لیبر پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹر قاسم کو آسٹریلیا میں سات سال قید گزارنے کے بعد آسٹریلیا میں قیام کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

بھارت نے قاسم کو اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کوئی بھی ملک انہیں لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

قاسم نے عارضی طور پر آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت ملنے پر کہا کہ قید بہت بری جگہ اور بالخصوص جب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہو کہ آپ کو کتنی مدت تک قید رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ اتنی لمبی مدت کے لیے جیل میں رہیں تو آپ کا ذہن باہر کی دنیا کو بولنے لگتا ہے۔

قاسم انیس سو اٹھانوے میں پناہ کی تلاش میں آسٹریلیا پہنچے تھے اور اس وقت سے ہی قید ہیں۔

اس دوران انہیں ڈپریشن کے علاج کے لیے ایڈیلیڈ کے ایک ہسپتال میں بھی رہنا پڑا۔

رہائی کی خبر سن کر انہوں نے کہا اب میں آزاد ہو جاؤں گا اور باہر کی زمین پر چلوں گا اور اپنی آزادی کا لطف اٹھا سکوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن میں خوش ہوں کہ آخر کار میں معمول کی زندگی گزار سکوں گا۔

آسٹریلیا کی امیگریشن پالیسی کے خلاف لوگ قاسم کو ایک مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی پالیسی غیر ضروری طور پر سخت اور ناانصافی پر مبنی ہے۔

لیبر پارٹی کے امیگریشن کے ترجمان نے کہا کہ ایک شخص کو سات سال تک قید رکھنے کے بعد جس نے آسٹریلیا کی شہریت کی خواہش کرنے کے علاوہ کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا اب معمول کی زندگی یقینی بنانا چاہیے۔

قاسم کے ویزے کی شرائط کے مطابق وہ آسٹریلیا میں عارضی طور پر رہ سکتے ہیں، کام بھی کرسکتا ہیں اور انہیں کو سرکاری فنڈ بھی مل سکتے ہیں لیکن اگر انہیں ملک چھوڑنے یا ڈیپورٹیشن کے احکامات دیے گئے تو ان کی تعمیل کرنا ہو گی۔

66امریکہ نہیں کینیڈا
امریکی عوام میں کینیڈا مقبول ہو رہا ہے۔
66گلوبلائزیشن کے معمار
اٹلانٹا کی کامیابی میں تارکین وطن کا کردار
66میرا نظریہ
ہجرت تاریخ کا محرک ہے: جارج الیگیّا
غیر قانونی تارکین وطن
’شاید مشکلات کے خاتمے کا وقت آیا چاہتا ہے‘۔
66امتیاز کا مزید پھیلاؤ؟
امریکی قوانین سے امتیاز کم ہوگا، آپ کی رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد