شہریت کی خواہش، 7 سال قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں سب سے زیادہ لمبے عرصے تک قید رہنے والے شخص کو رہا کیا جانے والا ہے۔ ان کا تعلق بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہے آسٹریلیا میں امیگریشن کے وزیر امینڈا وانسٹون کا کہنا ہے کہ اکتیس سالہ پیٹر قاسم کو رہا کر دیا جائے گا جبکہ اس کے کیس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ حزب اختلاف لیبر پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹر قاسم کو آسٹریلیا میں سات سال قید گزارنے کے بعد آسٹریلیا میں قیام کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ بھارت نے قاسم کو اپنا شہری ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کوئی بھی ملک انہیں لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ قاسم نے عارضی طور پر آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت ملنے پر کہا کہ قید بہت بری جگہ اور بالخصوص جب آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہو کہ آپ کو کتنی مدت تک قید رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اتنی لمبی مدت کے لیے جیل میں رہیں تو آپ کا ذہن باہر کی دنیا کو بولنے لگتا ہے۔ قاسم انیس سو اٹھانوے میں پناہ کی تلاش میں آسٹریلیا پہنچے تھے اور اس وقت سے ہی قید ہیں۔ اس دوران انہیں ڈپریشن کے علاج کے لیے ایڈیلیڈ کے ایک ہسپتال میں بھی رہنا پڑا۔ رہائی کی خبر سن کر انہوں نے کہا اب میں آزاد ہو جاؤں گا اور باہر کی زمین پر چلوں گا اور اپنی آزادی کا لطف اٹھا سکوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن میں خوش ہوں کہ آخر کار میں معمول کی زندگی گزار سکوں گا۔ آسٹریلیا کی امیگریشن پالیسی کے خلاف لوگ قاسم کو ایک مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی پالیسی غیر ضروری طور پر سخت اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ لیبر پارٹی کے امیگریشن کے ترجمان نے کہا کہ ایک شخص کو سات سال تک قید رکھنے کے بعد جس نے آسٹریلیا کی شہریت کی خواہش کرنے کے علاوہ کوئی جرم بھی نہیں کیا تھا اب معمول کی زندگی یقینی بنانا چاہیے۔ قاسم کے ویزے کی شرائط کے مطابق وہ آسٹریلیا میں عارضی طور پر رہ سکتے ہیں، کام بھی کرسکتا ہیں اور انہیں کو سرکاری فنڈ بھی مل سکتے ہیں لیکن اگر انہیں ملک چھوڑنے یا ڈیپورٹیشن کے احکامات دیے گئے تو ان کی تعمیل کرنا ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||