BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 March, 2004, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہجرت -- تاریخ کا محرک

جارج الیگیّا بی بی سی ٹیلی ویژن پر خبر پیش کرتے ہیں
جارج الیگیّا بی بی سی ٹیلی ویژن پر خبر پیش کرتے ہیں
میری پیدائش ایک براعظم میں ہوئی، میں نے دوسرے براعظم میں منتقلی کی اور اب تیسرے براعظم میں رہائش پزیر ہوں: ایشیا، افریقہ اور یورپ، یا سری لنکا، گھانا اور برطانیہ۔ یہ ایک بہتر زندگی کی راہ میں اہم منزلیں ہیں، ایک تارک وطن کی زندگی کے سفر میں تاریخ ساز پیش خیمہ۔

چالیس سال قبل پیدائشی وطن چھوڑنے کی ہماری وجہ ان وجوہات سے کچھ مختلف نہیں تھی جس کے سبب آج کل لوگ ہجرت کرتے ہیں۔ ہاں، ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا جبکہ کچھ لوگ آج کل غیرقانونی، مہنگا اور نہایت ہی مشکل راستہ اپناتے ہیں جو انسانوں کی اسملِنگ کرانے والے تجارت کار ممکن بناتے ہیں۔

کچھ معاشی تارکین وطن ہیں جو سیاسی پناہ چاہتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے۔ لیکن ترک وطن کی اہم وجہ قسمت سے ملے ہوئے حالات کو تبدیل کرکے زندگی کی معیار کو بہتر بنانا ہے۔

اس حقیقت کے پیچھے کہ آج تارکین وطن خطرات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں ایک راز ہے: ترک وطن کا عمل غریب اور عدم استحکام کے شکار ملکوں سے امیر اور مستحکم ملکوں کی جانب ہورہا ہے۔ ہر بچہ جس نے کبھی سمندر کے کنارے ریت کا گھر بنایا ہے یہ بھی جانتا ہے کہ پانی کی لہریں اسے توڑ دیں گی۔ اگر پانی فطرت کا محرک ہے تو ہجرت یعنی ترک وطن تاریخ کا محرک۔

ہجرت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اخباروں کی سرخی لکھنے والوں کی نظر سے نہیں۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ترک وطن کا اثر اہم رہا ہے۔ اگر انیسویں صدی کے نصف میں آئرش لوگوں نے امریکہ کا رخ نہیں کیا ہوتا تو آج امریکہ کہاں ہوتا؟ آج آسٹریلیا کہاں ہوتا اگر وہاں صرف وہی لوگ آباد ہوتے جو اپنے ’مادری ملک‘ (برطانیہ) سے آئے تھے؟ کچھ بدتمیز لوگ ہی آج اس بات پر یقین کریں گے کہ چینی، اطالوی، ویت نامی، سرب، وغیر وغیرہ لوگوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

اور ہم، برطانیہ میں، ہندوستانی نژاد لوگوں کے تجارتی اور پروفیشنل کردار کے بغیر کہاں ہوتے؟ صرف ہمارے محکمۂ صحت عامہ یعنی این ایچ ایس میں ہی دس ہزار ہندوستانی نژاد لوگ کام کررہے ہیں، ایک ایسے شعبے میں جو کہ ہمارا ایک تہذیبی ادارہ ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ سال چوالیس ہزار میڈیکل ورکر برطانیہ کام کرنے آئے۔ تارکین وطن برطانوی آبادی کا آٹھ فیصد ہیں اور ہماری سالانہ پیداوار اور آمدنی میں ان کا حصہ دس فیصد ہے۔

آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کو دودھ کا ایک بوتل شام کو آسانی سے اس لئے مل جاتا ہے کیوں کہ ہندوستانی نژاد مالکان دیر رات تک اپنا دکان کھولے رکھتے ہیں، جبکہ باقی لوگ آرام کررہے ہوتے ہیں؟

میں جب لوگوں سے ہجرت یعنی ترک وطن کے بارے میں بات چیت کرتا ہوں، ان کا نقطۂ نظر مختلف ہوتا ہے، ایک بڑا عجیب سا موقع ہوتا ہے جب میرے انگلِش ٹون (روایتی انگریزی لہجہ) کے باوجود انہیں اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ میں ایک تارک وطن یعنی مہاجر ہوں۔
’اوہ، تم مختلف ہو۔۔۔‘

اس طرح کے جوابات سے وہ اپنے امتیازی نظریے کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں میرا جواب ایک ہی ہوتا ہے: آج اس ڈرپوک بچے کے لئے میری طرح بی بی سی پر خبریں پڑھنے کا اتنا ہی موقع ملے گا جتنا اس کے ساتھ اسکول میں پڑھنے والے دوسرے طلباء کو۔

میں آج جو کچھ ہوں وہ اس لئے ہے کہ میں نے برطانیہ میں ملنے والے مواقع کا فائدہ اٹھایا، برطانیہ، امیدوں کی ایک سرزمین۔ آج کے تارکین وطن کو یہ مواقع نصیب نہ کرانا ناانصافی ہوگی لیکن اہم بات یہ کہ اس سے یہ ثابت ہوگا کہ عالمگیریت کی اس نئی صدی میں ہمارے ملک کے مقام پر ہمارا یقین نہیں رہا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد