آٹھ لاکھ کوشہریت دینے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کی حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً آٹھ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت ان لوگوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی جو سپین میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور بغیر سرکاری اجازت کے کام کر رہے ہیں۔ سپین کی سوشلسٹ حکومت نے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلہ سے نبٹنے کے لیے یہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام اسی دوران دو سو ستائیس غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو ہفتے کو ایک کشتی پر سوار سپین کے ساحل کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے سپین میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سفارت خانوں اور مقامی کونسلوں کے دفاتر کے سامنے قطاریں لگائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اپنی دستاویزات جمع کرانے کے لیے ابھی تین مہینے باقی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت ایسے تارکین وطن کو جن کے پاس کم از کم چھ مہینے کا کام کرنے کا معاہدہ ہے اور جو مقامی کونسل یا سوشل سیکورٹی آفس کے پاس رجسٹرڈ ہے سپین میں رہنے اور کام کرنے کا قانونی حق دے دیا جائے گا۔ نئے قوانین کے نفاذ اور تارکین وطن کو قانونی حق دینے سے سیپن کی حکومت کو کئی کروڑ یورو کی آمدنی کی بھی توقع ہے۔ ایک انداز کے مطابق سپین میں دس لاکھ تارکین وطن غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ زیادہ تر تارکین وطن سپین کے زرعی اور صنعتی شعبے سے منسلک ہیں۔ تاہم تارکین وطن کے کچھ گروہوں کا خیال ہے کہ ان قوانین سے مسئلہ کا مکمل طور پر حل مکمن نہیں ہے کیونکہ ان قوانین میں کوئی لچک نہیں ہے۔ زرعی شعبے سے منسلک کارکنوں کو یہ سہولت مہیا کی گئی ہے کہ وہ تین مہینے کا معاہدہ پیش کرکے بھی قانونی حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||