قیلولہ بہت ضروری ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدیوں تک سپین میں روایت تھی کہ لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر آتے اور کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں سمجھتی جاتی تھی بلکہ ہر فرد کا قومی حق کہلاتا تھا۔ سپین یا ہسپانیہ میں دیر تک کام پر رہنا اور راتیں دوستوں کے ساتھ گزارنا عام تھا اور اپنے ذہن اور بدن کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے سپین کے باسی قیلولہ کیا کرتے تھے۔ لیکن اب سپین میں ثقافتی تبدیلوں کی وجہ سے دوپہر کو تھوڑی سی نیند کے خیال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اور قیلولہ - - - قیلولہ تو ایک خطرناک تصور بن گیا ہے۔ چناچہ آج سپین کے لوگ نیند کے مارے ہوئے ہیں۔ مختلف مطالعوں میں پتہ چلا ہے کہ سپین کے لوگ ہر روز ایک عام یورپی باشندے کی نسبت ایک گھنٹہ کم سوتے ہیں۔ آج کل سپین میں شاید ہی کوئی شخص قیلولہ کرتا ہو۔ سپین میں عالمگیریت کا اثر کچھ ایسا ہے کہ کثیرالقومی کمپنیوں کی بھر مار کی وجہ سے کاروباری افراد زیادہ دیر تک اپنے ڈیسک سے دور نہیں رہ سکتے۔ لہذا سپین میں شہریوں کو مشورہ فراہم کرنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ اس نقصان کی تلافی کے لیے ضروری ہے کہ سپین میں دفاتر کے اوقاتِ کار میں کمی کی جائے۔ سپین میں لوگوں کے سونے پر تحقیق کرنے والے ادارے کے ایک ڈائریکٹر فرنینڈو باچ کہتے ہیں کہ قیلولہ نہ کرنا خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ سپین میں حادثات کی شرح بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ کام کے دونوں کے اوقات میں کمی کرے اور دفاتر میں کام کرنے کے دورانیے کو یورپ کے دیگر ممالک کی طرح کا بنائے۔ لیکن خود یورپ کے دیگر ممالک بھی سپین سے سیکھ سکتے ہیں کہ قیلولے کو برا نہیں کہنا چاہیئے۔ سپین میں دوپہر کی دو گھنٹے کی روایتی نیند بھلے ہی زیادہ ہو لیکن ڈاکٹروں کے خیال میں قیلولہ کرنا ذہنی دباؤ اور دل کے امراض کو دور کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||