سپین دھماکے: نابالغ کو چھ سال قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے ایک سولہ سالہ باشندے کو گیارہ مارچ کو سپین میں ٹرین بم دھماکوں کے جرم میں حصہ دار قرار دیتے ہوئے چھ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا اس نے کافی مقدار میں دھماکہ خیز مواد دھماکے کرنے والوں کو پہنچایا تھا۔ ان دھماکوں میں اکیانوے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ نوجوان مجرم جو عدالت میں اپنی ماں کے ساتھ آیا، ان اٹھارہ مشتبہ افراد میں شامل تھا جنہیں مارچ کے دھماکوں کے بعد حراست میں لیا گیا اور جن کے مقدمے عدالتوں میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ بعض ہلاک ہونے والوں کے اقرباء اس وقت عدالت میں رو پڑے جب مجرم کو سزا سنائی جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض کا کہنا تھا کہ یہ سزا کافی نہیں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مقدمے کی کارروائی کافی تیزی سے کی گئی ہے۔ مجرم نے عدالت میں اپنے جرم کا اقرار اسی وقت کر لیا تھا جب اس کے خلاف مسلح گروپوں سے تعلق رکھنے اور دھماکہ خیز مواد چرانے کے الزام لگائے گئے تھے۔ لوگوں کو اس عدالتی کارروائی تک رسائی حاصل تھی تاہم مجرم کو ایک سکرین کے پیچھے بٹھایا گیا تھا تا کہ دورانِ سماعت اس کی شناخت نہ ہو سکے۔ جب جج نے مجرم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا جرم اور اس پر ملنے والی سزا کو قبول کرتا ہے تو اس نے اثبات میں جواب دیا۔ مجرم کا تعلق خانہ بدوشوں سے ہے لیکن اس کا نام اس لیے ظاہر نہیں کیا گیا کہ وہ ابھی بالغ نہیں ہے۔ اس نے اقرار کیا تھا کہ کام کے لیے اسے بارہ سو ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||