امریکہ چھوڑیں کینیڈا چلیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لگتا ہے انتخابات میں صدر بش کی کامیابی کے بعد امریکی عوام میں کینیڈا جانے کی خواہش میں زبردست اصافہ ہو گیا ہے۔ کینیڈا کے امیگریشن کے محکمے کے مطابق ان کی ویب سائٹ پر آنے والے امریکی شہریوں کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ویب سائٹ پراوسطاً روزانہ بیس ہزار لوگ آتے ہیں لیکن گزشتہ بدھ کے دن ان کی تعداد ایک لاکھ پندرہ ہزار ہو گئی۔اگرچہ دوسرے دن اس تعداد میں کمی آئی لیکن پھر بھی یہ تعداد تقریباً پینسٹھ ہزار رہی۔ افواہ تھی کہ ڈیموکریٹس کے حمایتی امریکی شہری جارج بش سے زچ ہو کر سرحد پار کینیڈا جانے کا سوچ رہے ہیں۔ امیگریشن کی وزارت کی ایک ترجمان ماریہ کے بقول کینیڈا کی پالیسی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ یہاں آئیں۔ ان کا محکمہ تمام نئے درخواست گذاروں کو خوش آمدید کہےگا، چاہے وہ ریپبلیکن ہو یا ڈیموکریٹس۔ ’صاف بات تو یہ ہے کہ ہماری آبادی صرف تین کروڑ بتیس لاکھ ہے اور ہمیں ضرورت ہے کہ مزیدلوگ ہمارے ملک میں مستقل سکونت کے لیے آئیں۔‘ تاہم ترجمان کے مطابق یہ بات کہ ویب سائٹ پر آنے والے امریکیوں میں سے کتنے لوگ امیگریشن کی درخواست دیتے ہیں، چھہ ماہ تک واضح ہوگی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ امریکہ سے ہم جنس پرستوں کی بڑی تعداد کینیڈا کا رخ کر سکتی ہے کیونکہ کینیڈا کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک ہی جنس کے درمیان شادی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد کینیڈا کے پانچ صوبوں میں اس قسم کی شادیوں کو قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کے دن گیارہ امریکی ریاستوں نے ہم جنس شادیوں پر ریفرنڈم کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ کتنے لوگ امریکہ سے کینیڈا جاتے ہیں، کینیڈا کے چند ویب سائٹزاور اخبار اس خبر کو تفنن طبع کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اوٹاوا سن نامی اخبار نے لکھا ’ کینیڈین ہونے کے ناطے آپ کوتمام مصنوعات امریکہ کی بنی ہوئی استعمال کرنا ہوں گی، امریکی ثقافت کو اپنانا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکیوں کے طور طریقوں کو برا بھی کہنا ہوگا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||