بھارت: دوہری شہریت کی اجازت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ 26 جنوری 1950 سے بیرون ملک رہائش پذیر بھارتی نژاد باشندوں کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت ہو گی۔ بیرون ملک مقیم انڈینز کی تین روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ ساری دنیا میں مقیم بھارتی اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اس کانفرنس میں پندرہ سو سے زیادہ باشندے شرکت کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بی جے پی کی حکومت نے پندرہ ملکوں میں مقیم بھارتی نژاد شہریوں کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دی تھی۔ ان ملکوں میں اکثریت یورپ کے ملکوں کی تھی۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت چند ملکوں میں مقیم بھارتی نژاد باشندوں کو دوہری شہریت رکھنے کی سہولت دینے کی بجائے ایسے تمام بھارتی نژاد باشندوں کو یہ سہولت دے گی جو 1950 سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت دوہری شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنائے گی۔ چین کے بعد بھارت کے باشندے سب سے زیادہ دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پچیس ملین بھارتی باشندوں نے بہتر روزگار کے لیے بیرون ملک سکونت اختیار کی ہے۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بیرون ملک بھارتی باشندوں کو کہا کہ اپنے آبائی ملک میں سرمایہ کریں۔ بطور وزیر خزانہ معاشی اصلاحات کا آغاز کرنے والے من موہن سنگھ نے بیرون ملک بھارتی باشندوں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے بیرون ملک مقیم باشندوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کر رکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||