خواتین قیدیوں کی رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ جیلوں میں قید ایسی خواتین جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں اور تاحال ان کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا انہیں رہا کیا جائے۔ یہ ہدایت انہوں نے سنیچر کے روز راولپنڈی میں صدارتی کیمپ آفس میں حدود قوانین میں ترامیم کے بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں وزیراعظم، حکمران مسلم لیگ کے صدر اور سیکریٹری جنرل، قانون، مذہبی امور، اطلاعات، خواتین کی ترقی اور دیگر محکموں کے وزراء کے علاوہ اٹارنی جنرل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی شریک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے مقدمات میں بیسیوں خواتین پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور کئی برسوں سے ان کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق صدر کی ہدایت پر درجنوں خواتین کی آئندہ دنوں میں رہائی کا امکان ہے۔ اجلاس کے بارے میں جاری کردہ سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کے متعلق امور اور قوانین میں ترامیم کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی۔ بیان کے مطابق خواتین کی ترقی سے متعلق وزارت، خواتین کو با اختیار بنانے کے کمیشن ، وزارت قانون اور اسلامی نظریاتی کونسل نے متعدد قوانین میں ترامیم کے بارے میں علیحدہ علیحدہ سفارشات پیش کیں۔ صدر نے کہا کہ قوانین میں ترامیم اسلام کی دائمی تعلیمات اور انصاف کی فراہمی کے عالمی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ اجلاس میں شریک اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ایم خالد مسعود نے کارروائی کی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن اتنا کہا کہ کونسل ستمبر تک حدود قوانین میں ترامیم کے بارے میں رہنما اصول وضع کردے گی اور اپنی سفارشات وزارت قانون کو بھیج دے گی۔ واضح رہے کہ سابق فوجی صدر ضیاء الحق نے متنازعہ حدود قوانین نافذ کیئے تھے۔ ان قوانین کو خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سیاہ قوانین قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی رہی ہیں اور ان میں عالمی قوانین سے مطابقت کے لیئے ترامیم کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہیں۔ اس بارے میں کئی بار پارلیمان میں ترمیمی بل پیش بھی ہوئے لیکن وہ منظور نہیں ہوسکے۔ گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل ’جیو ٹی وی‘ نے حدود قوانین پر تفصیلی بحث شروع کی تھی جس میں مختلف مسالک کے بیشتر علماء کا کہنا تھا کہ مروجہ حدود قوانین میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ترامیم کرکے انہیں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش 07 February, 2006 | پاکستان غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل15 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||