ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان |  |
 | | | اہلِ خانہ الزام لگا رہے ہیں کہ ذوالفقار کو ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے |
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے صدر ذوالفقار ملغانی بلوچ چھ روز سے لاپتہ ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں حکومتی خفیہ اداروں نے تونسہ شریف کے بازار سے اغوا کیا ہے۔ ذوالفقار بلوچ کے بھائی ظفر بلوچ نے پیر کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی کو بلوچستان میں جاری ’فوجی آپریشن‘ کی مزاحمت کرنے پر بعض حکومتی اداروں کی طرف سے مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ظفر بلوچ کے مطابق ان کے بھائی کو بدھ کے روز تونسہ کی تحصیل کچہری کے قریب سفید کپڑوں میں ملبوس چند نامعلوم افراد ایک جیپ میں بیٹھا کر لے گئے تھے اور اب تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بعض ذرائع سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں بعض حکومتی خفیہ اداروں نے ایک ’تفتیشی مرکز‘ بنا رکھا ہے جہاں لوگوں کو بغیر کسی قانون اور ضابطے کے قید رکھا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ غیر قانونی حراست میں رکھے گئے زیادہ تر لوگ بلوچ ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے نیم قبائلی ضلع ڈیرہ غازی خان میں کسی سیاسی کارکن کی ’پراسرار گمشدگی‘ کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل کوہلو کے میر اصغر مری، مصری خان مری اور مراد بخش وغیرہ بھی اسی طرح اغوا ہوچکے ہیں اور تا حال ان کا کو کوئی اتہ پتہ نہیں۔ پولیس حکام اگرچہ ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کرتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ میں بڑھتی ہوئی تخریبی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما لوگوں کا سراغ لگانے کے لیئے کچھ لوگوں کو حراست میں ضرور لیا گیا ہے۔ پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے دوران ڈیرہ میں متعدد بار ریلوے لائن، گیس اور تیل کی تنصیبات کو تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعض بلوچ قوم پرست جماعتیں پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو بلوچستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں۔ |