BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کہیں القاعدہ کا ٹھپہ نہ لگ جائے‘

سیف اللہ پراچہ
سیف اللہ پراچہ نے افعانستان میں مبینہ طور پر اسامہ سے ملاقات کی تھی
’ کہیں القاعدہ کا ٹھپہ نہ لگ جائے‘۔ یہی وہ خوف ہے جس کی وجہ سے سیف اللہ پراچہ کے اہلِ خانہ سے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے کنارہ کشی کر لی ہے۔

کراچی کے تاجر سیف اللہ پراچہ اور ان کے بیٹے عذیر پراچہ امریکی حکام کی حراست میں ہیں۔ سیف اللہ پراچہ گوانتامو کے حراستی مرکز جبکہ عذیر نیویارک کی جیل میں قید ہیں۔

سیف اللہ پراچہ کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ’ ہم جس سے بھی بات کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ ہم سے دور بھاگتا تھا۔ میں ایک ہاتھ پر بھی اپنے دوستوں کو نہیں گن سکتی یہاں تک کہ بہت سے قریبی رشتہ داروں نے بھی ہم سے رابطہ ختم کر دیا تھا‘۔

گزشتہ تین سالوں سے امریکہ کی زیر حراست سیف اللہ پراچہ کے دو بھائیوں سمیت خاندان کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں ہی مقیم ہے۔ سیف اللہ کی اہلیہ کہتی ہیں کہ’ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ ایسے معاملات میں پڑے۔ ہم بالکل تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں دنیا نے جیسے ہمیں بالکل چھوڑ دیا‘۔

ان رویوں کا صرف فرحت پراچہ کو سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان کے بچوں کو بھی طعنے اور جملے سننے پڑے جس کے بعد ان کا لوگوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔سیف اللہ پراچہ کی بیٹی منیزہ بتاتی ہیں کہ ان کے کچھ اساتذہ بھی ناپسندیدہ ریمارکس دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’جب میں نے آئی بی اے میں سکالرشپ لینے کے لیئے سوچا اور ایک استاد سے مدد کی درخواست کی تو انہوں نے مدد کرنے کے بجائے کہا کہ تمہارے بھائی کے پاس تو بڑی گاڑی تھی، وہ تو بڑے مزے میں آتا تھا تمہیں سکالرشپ کی کیا ضرورت ہے‘۔

بعض دفعہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میرا دماغ کام نہیں کر رہا کیونکہ ایک کا سوچتی ہوں تو دوسرے کا خیال آتا ہے۔

امریکہ نے سیف اللہ پراچہ پر طالبان حکومت میں اسامہ بن لادن کو جوہری ہتھیار فراہم کرنے اور عذیر پر القاعدہ کے اراکین سے تعلق رکھنے اور دہشت گردی کا منصوبہ بنانے کے الزام عائد کیئے ہیں۔

فرحت پراچہ کہتی ہیں کہ’میں تو حیران ہوں کہ یہ الزام کن ثبوتوں کی بنیاد پر لگائےگئے ہیں اگر وہ قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کوسزا دو مگرگزشتہ تین سالوں میں وہ کچھ ثابت نہیں کر سکے ہیں‘۔

سیف اللہ پراچہ دو مرتبہ افعانستان بھی گئے جہاں ان کی مبینہ طور پر اسامہ بن لادن سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ فرحت پراچہ کے مطابق ان کے شوہر صنعتکاروں کا وفد لے کر افغانستان گئے تھے تاکہ مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیئے اس تباہ حال ملک میں پلاسٹک اور بائسیکل کی فیکٹریاں لگائی جا سکیں۔

اس دورے میں کسی نے ان کی اسامہ سے بھی ملاقات کروائی مگر یہ گیارہ ستمبر سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیف اللہ پراچہ نے اسامہ سے کہا تھا کہ ’تم جو یہاں کر رہے ہو اس سے امریکہ تمہارے خلاف ہوگیا ہے۔ تم اپنا مؤقف بتاؤ اور ہمیں ایک انٹرویو دو‘۔ اس مقصد کے لیئے وہ اپنا وزٹنگ کارڈ بھی اسامہ کے پاس چھوڑ آئے تھے۔

مسز پراچہ بتاتی ہیں کہ آج تک وہ ایسے کسی شخص سے نہیں ملیں جو القاعدہ کے حوالے سے میرے پاس آیا ہو۔’اگر وہ القاعدہ کے ممبر تھے تو وہ ہماری مدد کو نہ پہنچتی‘۔

سیف اللہ پراچہ اور ان کے بڑے بیٹے کی گرفتاری کی وجہ سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اور اب ان کی اہلیہ جو ایک گھریلو خاتون تھیں آج کل گھر کے ساتھ باقی کاروبار بھی سنبھال رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ہماری ایک بلڈنگ ہے۔ اس کو کرائے پر دیا ہے اس کے علاوہ آمدنی کا اور کوئی ذریعہ نہیں بچا تھا‘۔

سیف اللہ پراچہ کے بڑے بیٹے عذیر پراچہ نیویارک جیل میں ہیں

امریکہ میں قید بڑے بیٹے عذیر کی یاد ان کی آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ک انہوں نے سوا تین سال سے بیٹے کو نہیں دیکھا۔ فرحت پراچہ کے مطابق امریکی حکومت نے انہیں بلایا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے سے ملیں اور اسے قائل کریں کہ وہ’پری بارگیننگ‘ کرے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ’میں زبردستی نہیں کر سکتی اور سب سے بڑی بات میں امریکی حکومت پر اعتماد ہی نہیں کرتی وہ مجھ بھی پکڑ لیں گے‘۔

سیف اللہ پراچہ کے اہل خانہ نے صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ امریکی سفیروں کو بھی خطوط لکھے ہیں مگر ان میں سے کسی نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

فرحت پراچہ کا کہنا ہے کہ’ بعض دفعہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میرا دماغ کام نہیں کر رہا کیونکہ ایک کا سوچتی ہوں تو دوسرے کا خیال آتا ہے۔ دونوں دنیا کے دوسرے سرے پر ہیں۔ مگر یہ سوچ کر پرامید ہوجاتی ہوں کہ وہ جب واپس آئیں گے تو ساری خوشیاں لوٹ آئیں گی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد