صحافی کی گمشدگی: تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ یا آئی ایف جے نے پاکستان میں سندھی اخبار ’کاوش‘ کے صحافی مہرالدین مری کی گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ مہرالدین مری کو ملک کے انٹیلیجنس اداروں نے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے۔ آئی ایف جے کے صدر کرسٹوفر وارن نے کہا کہ پاکستان میں حکام کے ہاتھوں صحافیوں کی گمشدگیوں کے حوالے سے ایک قابل تشویش رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ آئی ایف جے کے مطابق صحافیوں کی خاص طور پر ریاستی اداروں کے ہاتھوں گمشدگی بنیادی انسانی حقوق کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے جس پر حکومت کو سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ اس قسم کی گمشدگیوں کا سدباب کیا جاسکے۔ آئی ایف جے نے پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے۔ یہ واقعہ دو صحافیوں مکیش روپیٹا اور سنجیو کمار کی تین ماہ کی غیرقانونی حراست سے رہائی اور صحافی حیات اللہ کی لاش ملنے کے فوری بعد عمل میں آیا ہے۔ مہرالدین مری کی گمشدگی پر سندھ کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں اور ان مظاہروں میں سخت غم وغصے کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مہرالدین مری کو پولیس کی ایک بھاری نفری نے اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ ٹھٹہ سے گولارچی آرہے تھے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانیوں پر خصوصی پروگرام03 July, 2006 | پاکستان تاریخ: پاکستان میں سیاسی گمشدگیاں01 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانی: بی بی سی کی ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان ’انجینیئر عتیق ہمارے پاس نہیں‘07 July, 2006 | پاکستان پشاور میں صحافیوں کا احتجاج06 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||