BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 July, 2006, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انجینیئر عتیق ہمارے پاس نہیں‘

عیتق کو ان کی شادی کے دن اٹھا لیا گیا تھا
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے سامنے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی اور وزارت داخلہ نے اٹامک انرجی کمیشن کے انجنیئر عتیق الرحمٰن کی حراست سے واضح طور پر لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی حراست میں نہیں ہے۔


جمعہ کے روز لاپتہ انجنیئر کے والد کی درخواست پر جسٹس سردار محمد اسلم نے سماعت شروع کی تو سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے ان کے وکیل راجہ افتخار نے عدالت میں تحریری جواب داخل کیا۔

درخواست گزار کے وکیل چودھری اکرام کے مطابق حکومت کے وکیل نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا ہے کہ عتیق الرحمٰن نہ ان کی حراست میں ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں انہیں علم ہے۔ عدالت نے اب مزید کارروائی جولائی کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جج تبدیل ہوتے رہے اور عدالت نے کئی بار متعلقہ حکام کو انجنیئر کی حراست کے متعلق واضح طور پر تحریری جواب پیش کرنے کے لیئے مہلت بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی صدیق الرحمٰن نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہلکار دو برس قبل ان کی شادی والے دن اٹھا کر لے گئے تھے اور تاحال انہیں رہا نہیں کیا۔

عتیق الرحمن کے والد کے وکیل اکرام چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے عدالت میں بیان حلفی داخل کیا ہے جس کے مطابق خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار انہیں کہتے رہے ہیں کہ عتیق الرحمٰن خیریت سے اسلام آباد میں ہیں اور وہ جلد ہی رہا ہو جائیں گے۔

وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ عتیق الرحمن کے گھر والوں کو ایک مرتبہ یہاں تک کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کی تیاریاں شروع کر دیں کیونکہ انہیں جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ اکثر بار انہیں ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں مطلوب افراد کو حراست میں لیتی ہیں اور عدالت کے سامنے اس کا اقرار بھی نہیں کرتیں۔

ادھر اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عتیق الرحمٰن کمیشن سے اپنی شادی کے لیئے چھٹی لے کر گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔

ان کے مطابق عتیق الرحمٰن کے خلاف جوہری کمیشن نے کسی بھی حکومتی ادارے کو کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے کام پر کمیشن کو کوئی اعتراض ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد