کراچی بجلی بحران پرہائی کورٹ نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بجلی کے بحران کے سلسلے میں پانی و بجلی کی وزارت، نجکاری کمیشن اور کے ای ایس سی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیئے ہیں۔ عدالت نے یہ نوٹس سندھ ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ ندیم احمد کی ایک درخواست پر جاری کیئے ہیں جو انہوں نے ایک شہری کو حاصل بنیادی حقوق کے تحت دائر کی ہے اور جس میں وزارت برائے بجلی و پانی، نجکاری کمیشن اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس افضل سومرو پر مشتمل ڈویزن بینچ دس جولائی کو پہلی سماعت کرے گا۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے کراچی کے شہری باقاعدگی کے ساتھ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کر رہے ہیں مگر بجلی کی فراہمی میں مسلسل تعطل ہے۔
جس وجہ سے گھر، دفاتر، اسکول اور ہستال متاثر ہو رہے ہیں جب کہ کے ای ایس سی کی جانب سے کسی بھی طرح کے متبادل انتظامات نہیں کیئےگئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق لوگوں کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کسی کا احتساب کیا جاتا ہے۔ اگر شکایت سینٹر پر فون کیا جاتا ہے تو وہاں سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ’یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کب بجلی آئےب گی اور کب جائے گی‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جس میں غریب لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جو فلیٹوں میں رہائش پذیر ہیں اور لوڈشیڈنگ کے دوران ان فلیٹوں میں رہنا ناممکن ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے گزراش کی ہے کہ تمام فریق ایک ہفتے کے اندر بجلی کے بحران کے اسباب سے عدالت کو آگاہ کریں اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیئے کیا انتظامات کیئے گئے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ کے ای ایس سی کو ہدایت کی جائے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور اگر کی بھی جائے تو اس سے قبل اخبار کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ دوسری جانب کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی چیف ایگزیکیٹو افسر فرینک شیرزشمٹ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ واپڈ کی جانب سے ایک سو میگا واٹ اضافی بجلی کی فراہمی سے آدھی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ موسم گرما میں کراچی میں بجلی کی کھپت بائیس سو سے تئیس سو میگا واٹ ہوتی ہے جس میں ایک ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ فرینک شیرزشمٹ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اوور لوڈنگ کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اوور لوڈنگ کی باعث کیبل، سوئچ اور گرڈ اسٹیشن گرم ہو کر ٹرپ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ چھ ماہ میں آٹھ لاکھ سے زائد ائرکنڈیشنر فروخت ہوئے ہیں، تیرہ چودہ ہزار روپے کیش کے علاوہ ایک ہزار پانچ سو روپے اقساط پر بھی اے سی دستیاب ہیں۔ اس وجہ سے بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور اکثر ائر کنڈیشنر چوری کی بجلی پر چلائے جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نجکاری سے قبل کے ای ایس سی میں مجسٹریٹی نظام تھا جو چوری کی روک تھام کے لیئے موثر ہوتا تھا مگر نجکاری کے بعد یہ نظام ختم ہوگیا ہے۔ فرینک شیرزشمٹ نے بتایا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت دو ہزار پندرہ تک کے ای ایس سی بجلی کی پیداوار چوالیس سو کرنے اور فراہمی بہتر کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں کراچی میں بجلی کا بحران01 July, 2006 | پاکستان کراچی: جنریٹر کی فروخت میں اضافہ01 July, 2006 | پاکستان کےای ایس سی کے لیےحکومتی اعانت 08 June, 2006 | پاکستان واپڈا لوڈشیڈنگ: وزیر پریشان01 October, 2004 | پاکستان کراچی مغرب کے بعد بازار بند02 June, 2006 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||