BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی مغرب کے بعد بازار بند

کراچی لوڈ شیڈنگ
کراچی میں مغرب کی نماز کے وقت دوکانیں بند کرنے کے فیصلے سے دوکاندار پریشان ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کی کمی دور کرنے کے لیئے مغرب کی نماز کے بعد بازار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چالیس فیصد فروخت کم ہوجائےگی۔ کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری بجلی کے بحران نےامن و امان کا مسئلہ پیدا کردیا ہے۔ طویل لوڈشیڈنگ اور بریک ڈاؤن کی وجہ سے روزانہ شہر کے کسی نے کسی علاقے میں جلاؤ گھیراؤ کا واقعہ در پیش آتا ہے۔

گزشتہ دن سندھ کے گورنر عشرت العباد کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں کاروباری سرگرمیوں کے مرکز اس شہر کے بڑے بازار اور کاروباری مرکز مغرب کی نماز کے بعد بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس فیصلے پر پندرہ جون سے عملدرآمد ہوگا جو پندرہ اگست تک جاری رہے گا۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان سید سلطان حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کو دو ہزار آٹھ سو بیالیس میگاواٹ کی ضرورت ہے جس میں دو سو میگاواٹ کی کمی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس فیصلے سے ساٹھ میگاواٹ بچت ہوگی۔

ناانصافی ہے
 گرمی کی وجہ سے لوگ مغرب کے بعد آتے ہیں، اس وقت کاروبار بند کروانا ناانصافی ہے پانچ بجے سے دس ساڑھے دس بجے تک مارکیٹ میں رونق ہوتی ہے۔حکومت اس وقت اس کو ویران کرنا چاہتی ہے۔
مقامی دوکاندار

انہوں نے کہا کہ عوامی اجتماع والے مقامات اور میڈیکل اسٹوز وغیرہ بند نہیں کیے جائیں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس فیصلے سے کیا ریوینیو میں کمی نہیں ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ کمی دور کرنے کے لیئے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور جو چیز موجود ہی نہیں ہے کہ اس کا نقصان کیسے ہوگا۔

کے ای ایس سی کے ترجمان کے مطابق اس فیصلے پر عملد درآمد کے لیئے شاپ کیپرز ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ہارون فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ
بجلی کے بحران کی وجہ سے صنعتی نقصان زیادہ ہورہا ہے، جبکہ پیداوار اور ایکسپورٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔اس فیصلے سے دکانداروں کی پچیس سے چالیس فیصد فروخت کم ہوجائیگی۔

انہوں نے کہا کہ شام سات بجے کے بعد کاروبار بند کردیں گے تو لوگ بھی اس سے متاثر ہونگے،اکثر لوگ اپنے دفاتر سے گھر جاتے ہوئے ضرورت زندگی کی چیزوں کی خریداری کرتے ہیں۔ہارون فاروقی کے مطابق مارکیٹ بند کردینا کوئی حل نہیں ہے یہ ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ اور دکانوں کے باہر جو سائن بورڈ لگے ہیں ان کو نہ جلایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب کسی کاروباری آدمی پر کوئی چیز زبردستی مسلط کی جائیگی تو اس کا مالی نقصان ہوگا پھر احتجاج اور مزاحمت کرنا ایک فطری عمل ہے۔

حکومت کے اس فیصلے سے جہاں بڑے تاجر پریشان ہیں وہاں عام دکانداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔موبائیل ٹیلیفون کے دکاندار محمد حنیف نے بتایا کہ عوام شام کو ہی باہر نکلتی ہے اور ان کا کاروبار کو شام کو زیادہ ہوتا ہے جب لوگ دفتر سے واپس آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دکان بند ہونگیں تو وہ ٹیکس کہاں سے دیں گے اور اس سے حکومت کا بھی نقصان ہوگا۔

صدر کے مین بازار میں گارمینٹس کے دکاندار بشیر احمد نے بتایا کہ گرمی کی وجہ سے لوگ مغرب کے بعد آتے ہیں، اس وقت کاروبار بند کروانا ناانصافی ہے پانچ بجے سے دس ساڑھے دس بجے تک مارکیٹ میں رونق ہوتی ہے۔حکومت اس وقت اس کو ویران کرنا چاہتی ہے۔

ایک سونار حاجی سلیم کا کہنا تھا کہ شام کو ہی کاروبار کا وقت ہوتا ہے،اگر شام کو دکان بند کردیں تو کاروبار کیسے چلے گا۔انہوں نے کہا کہ سات بجے مغرب کی نماز ہوتی ہے اس کا مطلب ہوکہ اس سے پہلے دکان بند کردیں تاکہ نماز بھی پڑہ سکیں۔

پاکستان میں روشنیوں کے اس شہر میں رات دیر تک خریداری کا رجحان ہے حکومت کے اس فیصلے اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد