BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 May, 2006, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں مزدوروں پر لاٹھی چارج

مزدوروں کا ایک روتا ہوا بچہ
مزدور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے
کراچی میں پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد چار خواتین اور تین بچوں سمیت پچاس سے زائد مزدوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

دادو اور ٹھٹہ شگر ملز سے تعلق رکھنے والے یہ مزدور بدھ کو جیسے ہی کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے تو پولیس اہلکاروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔

پولیس کے ساتھ لیڈی پولیس بھی موجود تھی، جنہوں نے مردوں اور خواتین کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔

لاٹھی لگنے کی وجہ سے کچھ مزدور زخمی بھی ہوگئے جبکہ لیڈی پولیس نے مزدورں کے ساتھ احتجاج میں موجود خواتین کو بالوں سےگھسیٹ کر موبائیلوں میں ڈالا۔

لاٹھی چارج
پولیس لاٹھی چارج کر رہی ہے

پندرہ منٹ تک جاری ان جھڑپوں کے دوران کچھ مزدور گورنر ہاؤس کے نزدیک فوارہ چوک تک پہنچنے میں کامیا ب ہوگئے۔ پولیس موبائیلوں نے چاروں طرف سے گھیرنے کے بعد چار خواتین، تین بچوں سمیت پچاس سے زائد خواتین کو حراست میں لے لیا۔

حکومت کی جانب سے انیس سو ننانوے میں دادو اور ٹھٹہ شگر ملز کو بند کرنے کے بعد ڈہائی ہزار ملازم بیروزگار ہوگئے تھے۔

لاٹھی چارج
عورتوں کو گھسیٹا جا رہا ہے

بیروزگار ملازمین روزگار کے لیئے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں، جس دوران دادو، حیدرآباد اور کراچی میں بھوک ہڑتال کے علاوہ ملازمین نے خود سوزی کی بھی کوشش کی ہے۔ دس دن قبل سندھ اسمبلی کے باہر پولیس نے احتجاج کے دوران لاٹھی چارج کیا تھا۔

چھبیس اپریل سے ملازمین نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کی ہوئی تھی۔ اور بدھ کے روز گونر ہاؤس تک مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔

مزدور رہنما صاحب خان کھوسو اور ممتاز علی نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ پچاس سال سے کم عمر لوگوں کو سرکاری محکموں میں ضم کیا جائیگا جبکہ پچاس برس سے زائد عمر کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر ریٹائر کیا جائیگا۔

لاٹھی چارج
مزدوروں نے کہا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا

انہوں نے کہا کہ حکومت خود اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ اس کی کابینہ نے بھی منظوری دے دی تھی، ایک ماہ ہوگیا ہے لیکن ابھی کچھ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا گورنر ہاؤس کی جانب پر امن مارچ تھا جسے پر تشدد بنایا گیا۔ مرد پولیس اہلکاروں نے بھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے بعد غائب کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔

واضح رہے کہ سندھ میں اس وقت تیس شگر ملزموجود ہیں۔ دادو شگر ملز اور
ٹھٹہ شگر ملز سندھ حکومت کی ملکیت تھیں جنہیں خسارے میں قرار دے کر بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
جیکب آباد لاٹھی چارج، 20 زخمی
15 September, 2005 | پاکستان
ملتان: 6خواتین سمیت 53 گرفتار
09 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد