BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیکب آباد لاٹھی چارج، 20 زخمی

احتجاج
سپنا کے بھائی وکی نے بتایا کہ ہندو کمیونٹی پردوہرا ظلم کیا گیا ہے
سندھ کے شہر جیکب آباد میں ایک ہندو لڑکی سپنا کے مبینہ اغواء کے خلاف ہندو کمیونٹی کے جلوس پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

لڑکی کےاغواء کے خلاف ہندو پنچایت کی جانب سے جمعرات کو ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ جس پر ہندو کمیونٹی نے کاروبار بند رکھ کر جلوس نکالا اور جیکب آباد ائرپورٹ کی طرف جانے کی کوشش کی جہاں سندھ کے وزیر اعلیٰ کو آنا تھا مگر پولیس نے مظاہرین کو وزیر اعلیٰ سے ملنے نہیں دیا۔

ہندو نوجوان کشور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ سےملاقات کرکے ان کو اپنے ساتھ ہونے والی ظلم کی داستان سنانا چاہتے تھے۔ مگر پولیس نےان پر لاٹھی چارج کیا۔ شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ جس میں بیس ہندو نوجوان زخمی ہوگئے۔

کشور نے کہا کہ ان کی بہن بیٹیوں کو اغواء کرکے زبردستی ان کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ اٹھارہ سالہ ہندو لڑکی سپنا کو دو ورز قبل اغواء کیا گیا تھا۔

اس کے والد گیان چند نےمحکمے ٹیلیفون کے ایس ڈی او فونز غلام حیدر اور دو ملازمین شمس الدین دستی اور میو خان پر اغواء کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

گیان چند نے کہا کہ شمس الدین ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر سپنا کو اغواء کر کے لےگیا ہے۔

سپنا کا اغواء
 اس کے والد گیان چند نےمحکمے ٹیلیفون کے ایس ڈی او فونز غلام حیدر اور دو ملازمین شمس الدین دستی اور میو خان پر اغواء کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

جیکب آباد سٹی پولیس نے ایس ڈی او فونز غلام حیدر اور ملازم میوخان کو حراست میں لیا ہے۔

اغواء ہونے والی لڑکی سپنا کے بھائی وکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندو کمیونٹی پر دوہرا ظلم کیا گیا ہے۔ لڑکی بھی ان کی اغواء ہوئی اور لاٹھیاں بھی انہیں پر برسائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ سپنا کو زبردستی مسلمان کیا گیا ہے۔ جس کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ لڑکی سے ان کی ملاقات کروائی جائے۔ اگر وہ خوشی سے مسلمان رہنا چاہتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ اٹھارہ سالہ سپنا سے شادی کرنے والے شمس الدین دستی کی عمر چونتیس برس ہے اور وہ پہلے سےشادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے۔

دباؤ
 لڑکیوں کے اغوا کے بعد ہر مرتبہ جے یو آئی کی جانب سے مسلمان لڑکوں کی حمایت کی گئی۔ موجودہ وقت بھی انتظامیہ پر جے یو آئی کا دباؤ ہے کہ گرفتارشدگان کو آزاد کیا جائے

گزشتہ چند سالوں کے دوران جیکب آباد سے چار ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا گیا۔ جن کو بعد میں مسلمان کرنے کے بعد ان سے شادی کی گئی۔ جیکب آباد شہر میں چالیس ہزار سے زائد ہندو آبادی ہے۔ ہندو کمیونٹی کی کاروبار پر گرفت ہے۔

لڑکیوں کے اغوا کے بعد ہر مرتبہ جے یو آئی کی جانب سے مسلمان لڑکوں کی حمایت کی گئی۔ موجودہ وقت بھی انتظامیہ پر جے یو آئی کا دباؤ ہے کہ گرفتارشدگان کو آزاد کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد