علی سلمان بی بی سی ڈاٹ کام لاہور |  |
 |  ہندو خواتین مندر کے باہر(فائل فوٹو) |
حکومت پنجاب نے لاہور میں شمشان گھاٹ کے قیام کے پاکستانی ہندوؤں کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرلیا ہے اور ہندوؤں کے مردوں جلانے کے لیےدریائے راوی پر ایک شمشان گھاٹ قائم کیا جارہا ہے۔ لاہور میں انتقال کرنے والے ہندوؤں کی لاشوں کواگرچہ دریائے روای کے کنارے ہی جلا دیا جاتا ہے لیکن پورے صوبے میں اس کام کے لیے کوئی باقاعدہ شمشان گھاٹ نہیں ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق بدھ کو ہندو برادری کے پانچ اراکین نے پاکستان بالمک سبھا کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر منور چند کی قیادت میں پنجاب کے صوبائی وزیراوقاف سے ملاقات کی اس ملاقات کے دوران اس وفد کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کی ہندو برادری لاہور میں مناسب مقام پر ششمان گھاٹ کے قیام کے لیے طویل عرصہ سے جو مطالبہ کر رہی تھی وہ اب پورا کر دیا گیا ہے اور لاہور کی ضلعی حکومت نے شمشان گھاٹ کے لیےسگیاں پل کے نزدیک ایک قطعہ اراضی کی نشاندہی بھی کردی ہے۔ وفد کو بتایاگیا کہ لاہور میں راوی روڈ پر قائم کرشنا مندر کی تزئین و آرائش کا پراجیکٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے جو جلد مکمل ہو جائے گا۔ |