BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندو جوڑا: قرآن کی بے حرمتی پر گرفتار

فائل فوٹو
گزشتہ دنوں قرآن شریف کی بے حرمتی کے ایک واقعے میں جماعت اسلامی نے ایک مظاہرہ
صوبہ سرحد کے شمال مشرقی ضلع صوابی میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ہندو جوڑے کو قرآن مجید کی مبینہ بےحرمتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

صوابی سے موصول اطلاعات کے مطابق گندف گاؤں کے ہندو چمن لال اور اس کی بیوی کرشنا کو قرآن کریم کو پھاڑ کر کھلے میدان میں پھینکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

صوابی پولیس کے سربراہ عطا محمد کے مطابق انہوں نے یہ مقدمہ ایک مقامی شخص کی شکایت پر درج کیا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے انہیں قرآن شریف کی بےحرمتی کرتے دیکھا ہے۔

پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو کسی نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جاری ہے۔

بے حرمتی کا یہ مبینہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا تھا جس کے بعد مقامی افراد پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے چمن لال کے مکان پر حملہ کر دیا اور تھوڑ پھوڑ کی۔ البتہ چمن لال اور اس کا خاندان کے دیگر افراد بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

گندف کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چمن لال نے سات برس قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بیوی کے کہنے پر دوبارہ ہندو مذہب کی جانب راغب ہوگیا تھا۔

پاکستانی قانون کے مطابق دونوں کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا مل سکتی ہے۔

چند ماہ قبل صوبہ سرحد میں ہی چراٹ کے علاقے میں ایک شخص کو مشتعل ہجوم نے قرآن شریف کی بےحرمتی کے الزام میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ اسی طرح نوشہرہ میں ایک واقعے میں ہندو مندر کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد