BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 May, 2004, 18:11 GMT 23:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستانی سیاستدانوں کی دولت
سپریم کورٹ کے ذریعے عوامی نمائندگی کے خواہش مند افراد کے لئے اپنے اثاثے ظاہر کرنے کو لازمی قرار دیئے جانے کے نتیجے میں ہندوستان عوام کو پہلی بار اپنے صاحبان ثروت سیاست دانوں کو جاننے کا موقع ملا ہے۔

موجودہ عام انتخابات کے دوران مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے اس سلسلے میں جو حلف نامے داخل کئے ہیں ان کے مطابق اچھے خاصے لوگ کروڑ پتی ہیں۔

پارلیمانی الیکشن کے لئے دائر حلف نامے کہ مطابق ریاست ناگالینڈ کی واحدلوک سبھا سیٹ کے آزاد امیدوار نمتھو نگولوتھا ہندوستان کے سب سے امیرامیدوار ہیں۔ مسٹر لوتھا کے مطابق وہ ضلع ووکھا میں پندرہ مربع کیلو میٹر زمین کے مالک ہیس جس کی قیمت نو ہزار کروڑ روپے ہیں۔

مسٹر لو تھانے اپنی زمین کی قیمت ضلعی انتظامیہ کے مطابق کچھ زیادہ ہی لگائی ہے۔

دوسرے سب سے امیر امیدوار میسور کے سابق شاہی خاندان کے چشم چراغ اور پچھلی لوک سبھا کے رکن مسٹر شری کانت دتا نرسنگھ راجہ واڈیار۔ انھوں نے میسور اور بنگلور کے دو محلات کے علاوہ بھی چند محلوں کو اپنی ملکیت ظاہر کیا ہے۔

مسٹر واڈیار کے مطابق انکی قیمت ڈیرھ ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے۔ حالانکہ میسور اور بنگلور کے جن دو محلوں کو وہ اپنا بتا رہے ہیں ان کی ملکیت کے سلسلے میں مقدمے عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ ریاست کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایس ایم کرشنہ نے تقریباً اٹھارہ کروڑ کے اثاثوں کا اظہار کیا ہے۔

نہایت ہی نچلی ذات ذاتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی یو پی کی بہو جن سماج وادی پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مس مایا وتی تقریباً دس کروڑ کے اثاثوں کی مالکن ہیں۔

آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ مسٹر چندرابابونائیڈو خود تو ڈیڑھ کروڑ روپے کے مالک ہیں مگر ان کی اہلیہ تقریباً ساڑھے انیس کروڑ کی ملکیت ہے۔

بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ لالو پرساد کے پاس ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی بنک ڈپازٹ ہے اور ان کے نام سولہ لاکھ کا ایک مکان بھی ہے۔ ان کی اہلیہ اور وزیرِ اعلیٰ رابڑی دیوی کی ملکیت کی کافی دلچسپ ہے۔ ان کے نام سولہ لاکھ روپے ہیں۔ اس کے علاوہ رابڑی نے سترہ لاکھ کی زمین کے علاوہ پچاس گائیں اور اکتیس بچھڑے ہیں جن کی قیمت سوا پانچ لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ رابڑی دیوی نے تقریباً چار لاکھ روپے بینکوں میں جمع کرا رکھے ہیں اور ان کے زیورات کی قیمت ڈھائی لاکھ ہے۔ یو پی کے وزیرِ اعلیِ مسٹر ملائم سنگھ کی ملکیت ایک کروڑ روپے سے اوپر ہے۔

وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کے حلف نامہ کے مطابق ان کے پاس نقد بیس ہزار روپے ہیں اور بنک ڈیپازٹ تقریباً اکتیس لاکھ روپے کی ہے۔

ان کے پاس کوئی زیور نہیں ہے البتہ دہلی میں ڈیرھ سے مربع میٹر کا ایک فلیٹ ان کے نام ہے جس کی قیمت اٹھائیس لاکھ ہے۔ نائب وزیرِاعظم ایل کے اڈوانی اور ان کی وجہ کی ملکیت سوا کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ وہ تقریباً پچھتر لاکھ کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ کی مالکن ہیں۔

ان کے بیٹے اور امیٹھی سے لوک سبھا کے امیدوار راہل گاندھی کے مطابق ان کی بنک ڈپاٹ گیارہ لاکھ ہے جبکہ سات لاکھ روپے انہوں نے بازار حصص میں لگا رکھے ہیں۔

جو بات ہندوستان کی عوام کے لئے خاصی دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے وہ ہے بیرونِ ملک کے بنکوں میں جمع ان کے پینسٹھ ہزار ڈالرز۔

فلم اسٹار اور کانگریس کے امیدوار سنیل دت اپنی برادری میں سب سے امید سے ہیں۔ ان کے پاس بائیس کروڑ کی ملکیت ہے۔ ایک اور مشہور فلم اسٹار دھرمیندر نے اپنی اور بیوی ہیمامالنی کی کل ملکیت چار کروڑ بتائی ہے۔

اثاثوں کے متعلق حلف نامہ میں ہر امیدوار نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی منقولہ اور غیر منقولہ ملکیت کا اظہار لازمی ہے۔

اس میں نقد، بنک ڈپازٹ، بانڈز اور شئیرز، دیگر بچت، موٹر گاڑی، زیورات اور بقیہ اثاثوں کے علاوہ زرعی اور غیر زرعی زمین، رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لئے تعمیر یا حاصل شدہ عمارتوں اور ان کی قیمت کا اظہار ضروری ہے۔

اثاثوں کے متعلق ان حلف ناموں سے بعض دلچسپ باتیں قابل غور ہیں۔ مہنگی کاروں کے شوقین پاکستانی سیاست دانوں کے لئے یہ امر باعث تعجب ہو سکتا ہے کہ وزیرِ اعظم واجپئی کے پاس محض ایک کار ہے۔ وہ بھی دس سال پرانی ایمبیسڈر۔

حلف ناموں کے مطابق ڈپٹی پرائم منسٹر لال کرشنا اڈوانی، لوک سبھا کے سابق اسپیکر منوہر جوشی، وزیر دفاع جارج فرنانڈس اور پٹرولیم کے وزیر رام نائک کے پاس تو کوئی گاڑی ہے ہی نہیں۔

ان حلف ناموں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ بھارتی سیاست داں بچت کرنے میں کافی ماہر ہیں اور بازار حصص کے یہ اچھے کھلاڑی ہیں مثال کے لئے مسٹر اڈوانی کے پاس ساڑھے چار لاکھ کے آئی سی آئی سی آئی اور ساٹھ ہزار روپے کے آئی بی ڈی آئی کے بانڈز ہیں۔

چند معروف سیاست دانوں کو چھوڑ کر عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان حلف ناموں میں دولت کا اظہار حقیقت سے کافی بعید ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے امیدواروں کی تعداد کافی ہے جن کی منقولہ دولت اور ان کے طرز رہائش اور زیبائش میں کوئی مناسب نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد