BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستانی وکلاء و جج لاہور میں

واہگہ پر وکلاء
وکلاء کے نمائندوں ، سرکاری وکلاء ، پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل اور چیف جسٹس کے نمائندے نے ہندوستانی وکلاء کا استقبال کیا

ہندوستان سے خیرسگالی کے وفود کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سوموار کے روز اٹھاون وکیلوں اور ایک جج پر مشتمل ایک وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا جہاں ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔

کالے کوٹ میں ملبوس پاکستان کے وکلاء کے نمائندے، سرکاری وکلاء، پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل شبر رضا رضوی اور چیف جسٹس کے نمائندے جج عبدالسلام خاور ہندوستان کے وکلاء سے گرمجوشی سے گلے ملے اور بے تکلفی سے باتیں کرتے رہے۔

ہندوستان کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کے چیف جسٹس وجے کمار جھانجی اور ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ہربھگون سنگھ بھی وفد میں شریک ہیں جن میں زیادہ تعداد پنجاب اور ہریانہ کے وکیلوں کی ہے جو اگرچہ ذاتی حیثیت میں لاہور اور اسلام آباد کے چار روز کے دورے پر آۓ ہیں لیکن انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جارہا ہے۔

ہندوستان کے وفد کے ارکان جب سوموار کی صبح گیارہ بجے کے قریب واہگہ کے راستے لاہور میں آنا شروع ہوۓ تو فضا میں شدید دھند قدرے کم ہورہی تھی۔ ہریانہ اور پنجاب ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجندر سنگھ چیمہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی دھند چھٹنی شروع ہوگئی ہے اور مختلف چھوٹے چھوٹے وفود کے یہ دورے تاریخ کا رخ موڑ دیں گے۔

راجندر سنگھ چیمہ نے کہا کہ وفود کے ایسے دوروں سے لوگوں کے جذبات کے عکاسی ہوتی ہے۔

واہگہ
اگرچہ وکلاء ذاتی حیثیت سے پاکستان آۓ ہیں لیکن انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جارہا ہے

جموں کشمیر کے چیف جسٹس وجے کمار کو صحافیوں کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جن کا انھوں نے خاصے تحمل سے جواب دیا۔

ان سوالوں کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے ایک ریاستی کمیشن ہے اور ایک ہندوستان کا پورے ملک کے لیے انسانی حقوق کمیشن ہے جہاں ایسی شکایات آتی ہیں تو ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

تاہم چیف جسٹس وجے کمار نے اس بات کو غلط قرار دیا کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں عورتوں سے جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ انھوں نے سوال کرنے والے صحافیوں کو کہا کہ وہ ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کشمیر آئیں اور خود دیکھیں کہ وہاں کیا صورتحال ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاملات بات چیت سے حل ہوں گے اور عوام کے درمیان رابطوں سے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وفد میں ہریانہ کی ریاتی اسمبلی میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے قائد حزب مخالف بھوپندر سنگھ نے کہا کہ انہیں لاہور میں آ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بہت اچھا آغاز ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے لوگ امن چاہتے ہیں۔

ہندوستان میں ہریانہ اور پنجاب کی بار ایسوسی ایشن کے درانمول رتن سدھو نے کہا کہ یہ وفد پیار اور خوشیوں کا سندیسہ لے کر آیا ہے اور اس کے ارکان پیار محبت کو فروغ دینے کے لئے آۓ ہیں۔

پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل شبر رضا رضوی نے بتایا کہ یہ وفد کا نجی دورہ ہے اور اس سال اکتوبر میں پاکستان سے پچیس وکلا کا ایک وفد چندی گڑھ میں ایک قانون سے متعلق عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا تھا تو وہاں کے وکلا نے پاکستان آنے کی خواہش کی تھی جس پر انھیں یہاں مدعو کیا گیا۔

پیر کی دوپہر لاہور ہائی کورٹ ے چیف جسٹس افتخار چودھری نے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا اور رات کو وزیراعلی پنجاب ایک عشائیہ دیں گے۔

کل دوپہر وفد اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان کی دعوت میں شریک ہوگا اور چھبیس دسمبر کو واپس جانے سے پہلے پنجاب کے گورنر کے ساتھ چاۓ کی دعوت میں شریک ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد