کراچی: اساتذہ پر لاٹھی چارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کنٹریکٹ اساتذہ کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے والے مرد و خواتین اساتذہ پر لاٹھی چارج کے بعد پولیس نے ایک سو سے زائد کو گرفتار کر لیاہے۔ پولیس اس کی تردید کی ہے۔ کمیشن کا امتحاں پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر رکھے گئے استاتذہ گزشتہ ایک ماہ سے کراچی پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اندرون سندھ کے دور دراز علاقوں سے آنے والے یہ استاتذہ رات کو سوتے بھی اسی کیمپ میں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں مستقل کیا جائے۔ ان اساتذہ نے سنیچر کو سندھ کے وزیراعلیٰ کی رہائشگاہ کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صبح ہی سے بڑی تعداد میں پولیس وزیراعلیٰ کی رہائشگاہ کی طرف جانے والے رستوں پر جمع ہو گئی تھی۔ محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکریٹری اور ایک اے ڈی او نے ان اساتذہ کو یقین دہانی کرائی کے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے اور سیکریٹری تعیلم ان سے مذاکرات کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ سیکریٹری تعلیم کے آنے پر استاتذہ نے معمول کے مطابق پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے مخالف رخ پر مارچ کرنا شروع کردیا۔ استاتذہ کے مارچ کے دوران روڈ پر ٹریفک جام ہوگیا۔ جس پر پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کردیا جس سے استاتذہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس کی لاٹھی کی زد میں آکر کئی لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ جبکہ پولیس بغیر تفریق لاٹھیاں برساتی رہی جس کی وجہ سے مارچ میں شامل دس سے زائد خواتین اساتذہ کوبھی چوٹیں آئیں۔ پولیس نے مرد اور خواتین اساتذہ کو پکڑ پکڑ کر پولیس موبائلوں اور وینوں میں ڈالا اور ساتھ لی گئی۔گرفتار ہونے والوں میں کنٹریکٹ ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر علی حسن جتوئی سمیت ایک سو اساتذہ شامل ہیں۔ جن کی گرفتاری کے بارے متعلقے تھانے نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||