یونیورسٹی اساتذہ ہڑتال کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب یونورسٹی نیو کیمپس پر طلبا حکومت کے درمیان مفاہمت کے بعد طلبا نے کیمپس کے سامنے سے گزرنے والی دونوں سڑکیں رکاوٹیں دور کرکے کھول دی ہیں۔ تاہم یونیورسٹی اساتذہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ کو ہڑتال کریں گے کیونکہ حکومت شرافت کی زبان نہیں سمجھتی۔ پولیس کی بھاری نفری وہاں سے ہٹا لی گئی ہے تاہم یونیورسٹی کے اساتذہ نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے کل ہڑتال کرنے کااعلان کیا ہے۔ نیو کیمپس کے شعبہ جات اور ہاسٹلوں کو ملانے والے نہر پر بنے سات پلوں کو توڑنے پر جمعرات کی نصف شب سے شروع ہونے والا طلبا کا یہ احتجاج جمعہ کی صبح تک جاری رہا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے پنجاب یونیورسٹی کے ناظم محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے دو زیر زمین راستے بنانے پر ابتدائی کام شروع کردیا ہے اور جب تک یہ راستے نہیں بن جاتے اس وقت تک طلبا کے لیے دونوں طرف آنے جانے کے لیے ہر دس منٹ کے بعد ایک بس چلائی جائے گی۔ تاہم آج طلبا کے یونیورسٹی کی انتظامیہ کے توسط سے حکومت سے ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے طلبا کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ توڑے گۓ کم سے کم تین پل دوبارہ تعمیر کرے۔ دوسری طرف یونیورسٹی اساتذہ کی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر افتخار بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اساتذہ ہفتہ کے روز لازمی طور پر ہڑتال کریں گے کیونکہ یہ لوگ شرافت کی زبان نہیں سمجھتے اور اگر ایسا ہوتا تو یہ واقعات رونما نہ ہوتے۔ افتخار بلوچ نے کہا کہ اساتذہ کو حکومت کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کہ وہ جلد زیر زمین راستے بنادے گی کیونکہ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ تمام توڑے گۓ پل دوبارہ بنائے جائیں اور سڑک پر بنائے گۓ بریکرز بھی دوبارہ تعمیر کیے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||