پنجاب یونیورسٹی میں سب پل مسمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب یونیورسٹی لاہور کے نیو کیمپس اور اولڈ کیمپس میں آدھی رات کو پولیس اور طلبہ میں تصادم ہوا ہے، جس میں کم از کم ایک پولیس اہلکار اور چار طلبہ زخمی ہوگئے۔ تاہم پولیس نے رات بھر کی کوششوں کے نتیجے میں تمام پل مسمار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس تصادم میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل چلائے طلبہ نے پتھراؤ کیا پنجاب یونیورسٹی میں رات کے آخری پہر تک کشیدگی کی فضا تھی۔ پولیس کی بھاری نفری نے دونوں کیمپس گھیرے میں لے رکھے تھے جبکہ طلبہ بھی اپنی پوزیشنیں سنبھالے کھڑے تھے۔ تاہم رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے نہر پر اسلامک سینٹر کے سامنے واقع ایک پل کو مسمار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تنازعہ کا آغاز بدھ کی شب دس بجے ہوا جب لاہور کے چند ترقیاتی اداروں کے اہلکار نیوکیمپس کے بیچوں بیچ گذرنے والی نہر پر بنے پل مسمار کرنے آئے۔ پولیس کے مطابق طلبہ نے نہ صرف انہیں کام نہیں کرنے دیا بلکہ عملہ کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری نیوکیپس پہنچ گئی ہاسٹلوں میں مقیم طلبہ بھی باہر آگئے اور سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے نیوکیمپس کی شاہراہ بند کردی گئی۔ طلبہ نے اعلان کیا کہ پولیس کو نیوکیمپس میں نہیں گھسنے دیا جائے گا۔نہ ہی کسی کو پل گرانے کی اجازت دی جائےگی۔ پولیس نے سڑکے دونوں اطراف سے کیمپس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو طلبہ نے پتھراؤ کردیا پولیس نے آنسو گیس کے شیل چلائے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ شیل لگنے سے چار طلبہ زخمی ہوئے۔ دوسری طرف دس کلومیٹر دور یونیورسٹی کے اولڈ کیپس سے ملحق لاءکالج ہاسٹل کے طلبہ بھی پولیس آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مال روڈ پر آگئے، طلبہ نے ٹائر جلائےاور ٹرک کھڑے کر کے مال روڈ بلاک کردی۔ یہاں بھی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس چلائی طلبہ نے پتھراؤ کیا جس سے ایک ایس ایچ او زخمی ہوگیا اسے میو ہسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر پل مسمار کر دیے گئے تو انہیں ہاسٹل اور دیگر اداروں سے کلاس روم تک جانے کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا جو پیدل جانے والوں کے لیے کئی فرلانگ کا اور کار موٹر سائیکل سواروں کے لیے کئی کلومیٹر کا اضافے کا باعث ہو گا اور بعض اوقات یہ سفر دن میں کئی کئی بار بھی کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ انہوں نے رجسڑار پنجاب یونیورسٹی کو کہا تھا کہ وہ حکام سے رابطہ کرکے انہیں پہلے متبادل انتظام کرنے کا کہیں پھر پل مسمار کیے جائیں لیکن بغیر کسی متبادل انتظام اور نوٹس کے عملہ پل مسمار کرنے آگیا ہے۔ انہوں نے کہا نیوکیپمس کے ایک انڈر پاس سے دوسرے انڈر پاس تک کا فاصلہ تین کلومیٹر ہے اور اگر دو انڈر پاس کے درمیان کے تمام پل گرا دئے جائیں تو ہزاروں طلبہ کے لیے واقعی مسئلہ ہو جائےگا۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن مرزا فاران بیگ نے کہا کہ پولیس جلد حالات پر قابو پالے گی۔قانون شکنی کی کسی کوا جازت نہیں دی جائےگی۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ پلوں گرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے حکمرانوں اور وزراء کی گاڑیوں کی تیز رفتاری میں فرق آتا ہے کیونکہ اس سڑک پر سپیڈ بریکر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر پل گرائے گئے تو طلبہ سڑک کو عوام کے لیے بند کردیں گے۔ کینال لنک روڈ کا یہ حصہ ایک دہائی سے طلبہ اور حکمرانوں کے درمیان تنازع کا سبب بنا ہوا ہے قریبا دس سال قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب اس سڑک کو ون وے کیا گیا تو تب بھی کشیدگی پیدا ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں کئی روز یونیورسٹی بند رہی جبکہ ایک پولیس اہلکار ہلاک بھی ہوا تھا۔ حکومت نے مذاکرات کے بعد نہر پر مزید تین پل بنائے جس کے بعد یہ تنازعہ ختم ہوا لیکن چار پانچ سال قبل نیوکیپس کے پہلے انڈر پاس کی تعمیر کے موقع پر تیز رفتار ٹریفک کو طلبہ کی جانوں کے لیے خطرہ قرار دیکر طلبہ نے ہڑتال کی اور مظاہرے کیے جس پر سڑک پر سپیڈ بریکر بنا کر طلبہ کے غصہ کو ٹھنڈا کیا گیا۔ اب نیوکیپس کے دوسری جانب مزید دو انڈر پاس کی تعمیر کے بعد حکومت پل اور سپیڈ بریکر ختم کرنا چاہتی ہے جو ایک بار پھر کشیدگی کا سبب بن گیا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||