پنجاب یونیورسٹی طلبہ پر مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے پنجاب یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ، اقدام قتل اور پولیس مقابلہ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ان طلبہ نے یونیورسٹی کےنیوکیمپس کی نہر کے ایک بڑے پل دوسرے چھوٹے پُل گرانے کی مزاحمت کی تھی۔ ایس ایچ اور تھانہ گارڈن ٹاؤن میاں شکور کے استغاثہ پر مبنی ایف آئی آر میں ان اکتیس طلبہ کے نام لکھے گئے ہیں جو پولیس آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے تھے جبکہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھی سینکڑوں نامعلوم طلبہ تھے۔ اس ابتدائی اطلاعی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری عملہ نیوکیمپس کا پُل اور پُلیاں مسمار کرنے گیا تو سینکڑوں طلبہ ڈنڈے ۔ لاٹھیاں ، اور دیگر اسلحہ سمیت موجود تھے۔ انہوں نے سرکاری اہلکاروں اور پولیس پر حملہ کیا سرکاری اہلکاروں کو زدوکوب کیا اور ہوائی فائرنگ کرکے دہشت پھیلائی۔ ایف آئی آر کے مطابق طلبہ نے پولیس اور دیگر سرکاری عملے پر قاتلانہ حملے بھی کیے ہیں اور پولیس کی ایک گاڑی سمیت دیگر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ ایف آئی آر میں طلبہ پر بلوہ کرنے اور پولیس مقابلہ جیسی سنگین دفعات بھی عائد کیے گئے ہیں اور اندیشہ نقص امن کے تحت ان کی گرفتاری کے لیے سولہ ایم پی او کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ ایف آئی آر نامعلوم طلبہ کے خلاف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گواہ یونیورسٹی کے کسی بھی طالبعلم کو ملزم کی حثیت سے شناخت کرلیتا ہے تو اسے کسی بھی سٹیج پر مقدمہ نامزد کیا جا سکے گا۔ طلبہ اور پولیس کے مابین بدھ اور جمعرات کی شب اس وقت تصادم ہوا تھا جب سرکاری عملے نے یونیورسٹی کے نیو کیمپس کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی نہر پر بنی پلیاں اور ایک بڑے پل کو مسمار کرنا شروع کیا طلبہ نے مزاحمت کی تھی اور مبینہ طور پر عملہ کو مار پیٹ کے بعد بھگا دیا تھا۔ بعدازاں پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی اور پولیس اہلکار ہاسٹلوں میں داخل ہوگئے تھے پولیس کی نگرانی میں علی الصبح یہ پلیاں اور پل گرا دیے گئے۔ اس موقع پر اکتیس طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہیں جمعرات کو پولیس طلبہ مذاکرات کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے ان مذاکرات کے نتیجہ میں طلبہ کے لیے نہر عبور کرنے کے لیے دو انڈر پاس کی تعمیر کا بھی وعدہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کینال روڈ کو ایکسپریس روڈ بنانا چاہتی ہے جو مستقبل کی لاہور رنگ روڈ سے منسلک کر دی جائےگی۔ ان پلیوں کے باعث سپیڈ بریکر بناۓ گئے تھے جو گاڑیوں کی تیز رفتاری میں خلل کا سبب تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||