BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 July, 2004, 20:39 GMT 01:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب یونیورسٹی تنازع بدستور جاری

پنجاب یونیورسٹی تنازع
جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں طلباء اور پولیس کے تصادم میں گرفتار کیے گۓ طلباء کو رہا کردیا گیا ہے لیکن طلباء نے شام دیر تک نیو کیمپس کے سامنے سے گزرنے والی سڑکیں ٹریفک کے لیے نہیں کھولی تھیں۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار کا کہنا ہے کہ طلباء رات تک سڑکیں کھول دیں گے جبکہ طلبا تنظیم کےنمائیندوں کا کہنا ہےکہ ابھی مذاکرات چل رہے ہیں۔

نیو کیمپس کے شعبوں اور ہاسٹلوں کو ملانے والے نو پلوں کو گرانے پر طلبا کا نصف شب سے صبح تک پولیس سے تصادم ہوتا رہا اور بیس سے زیادہ طلباء گرفتار کرلیے گئے تھے جنھیں شام کو رہا کردیاگیا۔

پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار نسیم الحق نے بی بی سی کو کہا کہ رات ساڑھے آٹھ بجے تک طلباء رکاوٹیں ہٹا کر یونیورسٹی کے سامنے سے گزرنے والی دو سڑکوں کو ٹریفک کے لیے کھول دیں گے۔

آج سارا دن یونیورسٹی کی انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلباء سے بات چیت کرتی رہی اور دوسری طرف وزیراعلٰی پنجاب چودھری پرویز الہی اور گورنر پنجاب خالد مقبول سے مذاکرات میں مصروف رہی۔

شام کے وقت طلبا اور یونیورسٹی انتظامیہ میں مفاہمت ہوئی اور نیو کیمپس سے گرفتار کیے گئے طلباء کو پولیس نے رہا کردیا۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار نے کہا کہ وہ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور اور گورنر پنجاب خالد مقبول سے ملے تو انھوں نے توجہ سے ان کی بات سنی اور یونیورسٹی کے مسائل کے حل کے کی یقین دہانی کرائی۔

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ حکومت نے یونیورسٹی کے مطالبے مان لیے ہیں اور طلبا کی آسانی کے لیے دو زیرزمین راستے بنائے جائیں گے ، تین فلائی اوورز کو موسم کی شدت سے بچانے کے لیے فائبر گلاس لگایا جاۓ گا اور طلبا کے لیے دو نئے ہاسٹل تعمیر کیے جائیں گے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے بھی ایسا ہی ایک ہینڈ آؤٹ جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نیو کیمپس میں ایک زیرزمین راستہ لڑکیوں کے لیے اور دوسرا لڑکوں کے لیے تعمیر کرے گی۔

تاہم رات سات بجے تک پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی نیو کیمپس کے باہر موجود رہی اور اس کے سامنے گزرنے والی سڑکیں ، جو جنوبی لاہور کی طرف جانے والا بڑا ذریعہ ہیں، بند رہیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کیمپس پر طلبا کی بڑی تنظیم ہے۔ اس کے ناظم سیف الرحٰمن نے بی بی سی سے کہا کہ جب تک حکومت نیو کیمپس کے سامنے نہر پر توڑے گئے پلوں کی جگہ زیرزمین راستہ نہیں بناتی، طلباء ان سڑکوں سے ٹریفک گزرنے نہیں دیں گے اور اسے موٹر وے کی طرح کی سڑک بننے نہیں دیں گے۔

طلبا تنظیم نے زیرزمین راستے کا مطالبہ پورا ہونے تک کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ جمعرات کو پنجاب یونیورسٹی میں طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔

پورے شہر میں کالجوں کے باہر پولیس کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔ طلبا نے شاہدرہ، اولڈ کیمپس اور اچھرہ کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے۔

پنجاب یونیورسٹی کے کلاس رومز اور ہاسٹلوں کے بیچ نہر اور دو سڑکیں گزرتی ہے جنھیں طلبا کی آمد ورفت کے لیے نو دس پلوں سے جوڑا گیا تھا لیکن رات گئے پولیس اور شہری انتظامیہ نے ٹریفک کے بہاؤ کو تیز کرنے کے لیے پلوں کو توڑنا شروع کیا تو طلباء نے مزاحمت کی۔

رات سے صبح تک جاری رہنے والے تصادم میں پولیس نے طلبا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس چلائی تھی اور بیس سے زیادہ طلباء ہاسٹلوں سے گرفتار کرلیے گئے تھے۔ چھ طلبا پولیس کی لاٹھیوں سے شدید زخمی ہوئے۔ پولیس اور طلبا کے درمیان تصادم تقریبا دس گھنٹے جاری رہا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد