BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 May, 2004, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات ہزار آسامیاں تین لاکھ امیدوار

سندھ میں اساتذہ
سندھ میں دس سال بعد سرکاری ملازمتوں سے پابندی اٹھائی گئی ہے
صوبہ سندھ میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بے روزگاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ تعلیم میں حکومت نے پرائمری سے لیکر سیکنڈری تک اساتذہ کی کی تقریبا سات ہزار آسامیاں پر کرنے کا اعلان کیا تو اس کے لئے تین لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دیں-

محکمہ نے یہ درخواستیں مقررہ فارموں پر طلب کی تھیں جو کہ بنکوں کے ذریعے ایک سو روپے کی ادائیگی پر حاصل کئے جا سکتے تھے-

ہزاروں امیدواروں نے یہ فارم بلیک پر بھی خرید کرکے درخواستیں جمع کروائیں- یوں بنکوں اور محکمہ تعلیم نے بیروزگار نوجوانوں سے نوکری کے نام پر لاکھوں روپے کمائے-

سنیچر کے روز صوبے بھر میں پرائمری اساتذہ اور اتوار سیکنڈری اساتذہ کے امیدواروں کے تحریری ٹیسٹ منعقد ہوئے-

اس مقصد کے لئے تقریبا ڈھائی سو امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے- لیکن یہ تمام کے تمام مراکز ضلعی ہیڈکوارٹروں میں قائم کئے گئے تھے- جس کے لئے مختلف اضلاع کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں مرد اور خواتین امیدوار بسوں اور ٹیکسیوں کے بھاری کرائے ادا کر ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچے-

پرائمری کیڈر کی چار ہزار آسامیوں کے لئے ایک لاکھ اسی ہزار امیدوار تھے جس میں سے ایک لاکھ انیس ہزار مرد اور اکتالیس ہزار خواتین تھیں-

سیکنڈری کیڈر کی تین ہزار کے لگ بھگ آسامیوں کے لئے ایک لاکھ سولہ ہزار امیدوار تھے جن میں سے چورانوے ہزار مرد اور اننچاس ہزار خواتین تھیں-

مٹھی، سانگھڑ اور بدین جیسے چھوٹے شہروں میں اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں کے رہنے اور کھانے پینے کا نہ کوئی بندوبست تھا اور نہ ہی مقامی ہوٹلوں میں اتنی بڑی تعداد کے لئے یہ سہولیات فراہم کرنے کی گنجائش تھی -

جس کی وجہ امیدواروں اور خاص طور پر خواتین کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا- ہوٹلوں پر کھانا اور پینے کا پانی تک ختم ہو گیا- دور دراز سے آئے ہوئے کئی امیدواروں نے رات ان شہروں کی سڑکوں اور میدانوں میں بسر کی جب کہ کئی امیدوار ٹرانسپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے ٹیسٹ میں شریک نہیں ہو سکے-

امتحانی مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کے علاوہ بیشتر مقامات سے پینے کے پانی اور امیدواروں کے بیٹھنے اور نشستوں کے حوالے سے خاصی بدنظمی اور نقل کی شکایات موصول ہوئی ہیں- کئی شہروں میں امتحانی پرچے دیر سے پہنچے-

امتحانی پرچے میں اسلامیات اور اور معلومات عامہ کے سیکشنز میں ایک ہی جیسے سوالات کی شکایات پربعض سوالات تبدیل کردیئے گئے۔

جب اقلیتی امیدواروں نے شکایت کی کہ انہیں بھی اسلامیات کے سوالات دئیے گئے ہیں تو انہیں سوالات تبدیل کرکے دینے کے بجائے بتایا گیا کہ انہیں ممتحن باقی سوالات کے جوابات کی روشنی میں اسلامیات کے سوالات کے لئے نمبر دے دیں گے-

تھرپارکر کے ضلع ہیڈکوارٹر مٹھی میں ایک امیدوار ٹیسٹ کے دوران بے ہوش ہو گیا جسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگیا-

بدین ضلع کے ٹنڈو غلام علی کے علاقے میں ایک بیروزگار نوجوان نے خود کشی کرلی کیونکہ اس کے والدین انہیں ٹیسٹ کے لئے بدین بھیجنے کے لئے مطلوبہ رقم کا بندوبست نہیں کر پائے تھے-

محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں تمام بندوبست کئے تھے لیکن ہر مرکز پر امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے اور دور دراز علاقوں سے ان کی آمد کی وجہ سے بہرحال بعض مسائل ضرور پیدا ہوئے-

امیدواروں کا کہنا تھا کہ نوکری ملے گی یا نہیں لیکن صرف ضلعی ہیڈکوارٹروں میں امتحانی مراکز قائم کرنے کی وجہ سے بیروزگار نوجوانوں کو بھاری اخراجات اٹھانے پڑے-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد